شکر گزار شخص اور روزہ دار

جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانے والا شکر گزار شخص ایسے روزہ دار کی مانند ہے جو صبر کرنے والا ہے اور حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ وہ جناب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ عجیب ترین بات مجھے بتائی تو آپ رو پڑے اور فرمایا کہ کون سا عمل آنحضرت کا ایسا ہے جو بڑا تعجب ہے اور رشک کرنے کے قابل نہیں تھا۔

ایک رات وہ میرے پاس تشریف فرما ہوئے میرے بستر میں آگئے یا فرمایا کہ لحاف کے اندر یہاں تک کہ آپ کا بدن میرے بدن کے ساتھ لگ گیا پھر آنجناب نے فرمایا کہ اے دختر ابوبکر کی مجھے جانے ہی دو تا کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کر لوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہے گو مجھے آپ کا قرب مطلوب ہے پھر بھی آپکی خواہش کو ہی اولیت دیتی ہوں۔ پھر آپ پانی کے شکیزہ کے نزدیک چلے گئے وضو فرمایا کثرت سے پانی نہ بہایا پس اٹھے اور نماز شروع کردی اور اس قدر گریہ کیا کہ آنسو آپ کے سینہ مبارک پر گرتے تھے پھر رکوع فرمایا اور روتے رہے پھر سر اوپر اٹھایا اور روئے حتی کہ یوں تمام رات آپ روتے ہی رہے۔ بالا حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے اور فجر کی نماز کی اطلاع کی تو میں عرض گزار ہوئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ روتے کیوں ہیں ۔

اللہ تعالی تو آپ کے گذشتہ و آیندہ کے تمام معاصی معاف فرما چکا ہے تو آنجناب نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں یوں کیوں نہ عمل کرو اللہ تعالی نے تو میرے اوپر یہ آیات کریمہ نازل فرمائی ہیں:۔ ( بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے)۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رونا نہ چھوڑا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: