روزوں کا اصل مقصد کیا ہے – حبیب الرحمن

        میں نے بچپن میں رسالہ “نور” میں ایک نظم پڑھی تھی جو لفظ بہ لفظ مجھے ایسی یاد ہوئی کہ رمضان المبارک کی آمد آمد کے ساتھ ہی بے اختیار میں اسے پہلے اپنے ہم عمروں کے ساتھ گنگنانے لگتا تھا اور اب اپنے پوتا پوتیوں اور نواسہ نوا سیوں کے سامنے سنانے لگتا ہوں۔ مجھے اس نظم کے شاعر کا نام تو یاد نہیں رہا لیکن نظم کچھ یوں ہے کہ


پھر سے روزوں کا مہینہ آگیا
آج پیٹو کو پسینہ آ گیا
کھیر حلوہ قورمہ سب رہ گئے
رال بنکر سارے ارماں بہہ گئے
ہاں مگر جو نیک ہیں ان کیلئے
اک فرشتہ بن کے روزے آ گئے


        میری عمر کے تمام ایسے افراد جن کے زیر مطالعہ “نور” رہا ہوگا ، یقناً ان کی نظروں سے یہ نظم ضرور گزری ہوگی اور ممکن ہے کہ یہ جن کی بھی تخلیق رہی ہو، وہ اب بھی حیات ہوں اور اب یہ تحریر جب ان کی نظروں سے گزرے تو ان کو نہ صرف اپنی تخلیق یاد آ جائے بلکہ میری طرح وہ بھی اس زمانے میں پہنچ جائیں جہاں اس وقت میں اپنے آپ کو موجود پا رہا ہوں۔
        بظاہر تو اس نظم کا ہر مصرع ذہنی اعتبار سے بچوں کی سطح کا سا ہے لیکن اپنے اندر بھر پور سچائی لئے ہوئے ہے۔ وہ افراد جو روزہ نہیں رکھتے وہ اسلامی کیلنڈر کے گیارہ ماہ جب، جہاں اور جس وقت چاہیں منہ مارنے کے عادی ہوتے ہیں اور ماہ رمضان میں بھی کھانے پینے سے باز نہیں آتے۔ نہ ہی وہ کسی ایسے اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں قانوناً روزوں کی خلاف ورزی پر کسی سزا کا ڈر ہو، پھر بھی نہ معلوم، رمضان کا مہینہ آتے ہی ان کے ماتھوں پر سلوٹیں کیوں پڑ جاتی ہیں۔ جب ان کو روزوں سے کچھ لینا دینا ہی نہیں تو آخر ان کو یہ ماہ مبارک اتنا گراں کیوں گزرتا ہے، یہ بات عقل و سمجھ سے بہت ہی بالا تر ہے۔ یہی بات نظم کے پہلے دو مصرعوں میں بیان کی گئی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد کے ساتھ ہی ان افراد کی جو روزے نہیں رکھا کرتے، کیا حالت ہو جاتی ہے جبکہ وہ تمام افراد جن کو پورے گیارہ ماہ اس مبارک مہینے کا شدت سے انتظار رہتا ہے، ان کا رواں رواں خوشی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے گلے لگانے کیلئے مضطرب اور بے چین نظر آ رہے ہوتے ہیں۔
        میں نہ تو کوئی عالم ہوں اور نہ ہی رمضان جیسے مقدس مہینے پر اپنی کسی علمی کم مائیگی کے سبب کوئی ایسی بات چھیڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں جو کسی نئی بحث کو جنم دے بیٹھے لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناتے یہ ضرور جانتا ہوں کہ جس اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی اللہ نے رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھنے کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ ان روزوں کو محض ہر مسلمان مرد و عورت پر اس لئے فرض کیا ہے تاکہ یہ تمہیں متقی بنا سکیں۔


        یہ تقویٰ کیا ہے، جب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی میرے خیال میں اس وقت تک روزے کی اہمیت اور اسے انسانوں کے حق میں اللہ کی ایک نعمت سمجھ لینا کسی صورت آسان نہیں ہوگا۔
        ارشاد رب کائینات ہے کہ “یہ ایک ایسی کتاب (قرآن حکیم) ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ ہدایت ہے متقیوں کیلئے (سورة البقرہ، 2)۔


        تقویٰ کے لغوی معنی ڈرنے، خوف کھانے اور اپنے آپ کو ہرنقصان دہ کام سے بچانے کے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی ہیں ہر قسم کے گناہ سے نفس کو بچائے رکھنا، اللہ کے لئے ممنوعہ باتوں سے اجتناب کرنا، اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت و فرمابرداری میں گزارنااور ہرہرقدم پر اللہ سے ڈرنا۔ تقویٰ انسانی زندگی کا شرف ہے۔ یہ ایسا قیمتی سرمایہ ہے جس کے ذریعے علم، روحانی ترقی، کامرانیاں اور قرب الٰہی کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کا بغور مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ تقویٰ کے ذریعے خیر و برکت، اجر و ثواب، نیک بختی اور سعادت مندی کا حصول آسان ہو جاتا ہے چنانچہ جو لوگ دنیا میں متقیانہ زندگی گزاریں گے اللہ تعالی نے انھیں جنت کی خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جنت میں جہاں ان کا قیام ہوگا وہاں باغات ہونگے ، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہونگی، عیش و آرام کی زندگی ہوگی۔اس کے بر عکس جن لوگوں نے، اللہ کے حکم کے خلاف زندگی گزاری، دنیا میں اللہ کی نافرمانیوں میں کمر بستگی اختیار کی، ان کے لئے سخت عذاب ہے اورانھیں دوزخ میں ڈالا جائے گا جہاں دہکتی ہوئی آگ ہوگی اوروہاں کی زندگی بہت اذیتناک ہوگی۔


        متقیانہ زندگی فقط عبادت کا حصہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا طرززندگی ہے جس سے معاشرے کے سدھار کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔ا گر یہ کہاجائے کی خداخوفی اختیار کئے بغیر یہ بات کسی طور ممکن نہیں کہ دنیا ایک پرامن اور پر سکون زندگی گزار سکے توبیجا نہیں ہوگا اس لئے کہ سارا کچھ اس ایک اللہ ہی کا ہے جس نے اس کائینات کو بنایا لہٰذا یہ بات طے ہے کہ بنانے والے (اللہ رب العالمین) ہی کی مرضی سے اس کائینات کو چلایا جائے گا اور چلانے والے اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی و منشا کا پابند کرلیں گے تو دنیا میں خوشحالی و شادمانی کا راج ممکن ہو سکے گا، بصورت دیگر دنیا کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔


        ایک متقی نہ تو کم تولنے کا سوچ سکتا ہے، نہ کسی کو دھوکا دے سکتا ہے، نہ جھوٹ بول سکتا ہے، نہ کسی سے انسانیت سوز سلوک کرسکتا ہے، نہ کسی برے کام میں شریک ہوسکتا ہے، نہ کوئی ایسا کام کرسکتا ہے جس میں اللہ کی رضا شامل نہ ہو اور نہ ہی اس کے ہاتھ پاؤں اور زبان سے اس کے اڑوس پڑوس کے لوگ کسی اذیت کا شکارہوسکتے ہیں۔


        ان تمام باتوں کا اگر گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس بات کو سمجھ لینا کوئی دشوار کام نہیں ہوگا کہ تقویٰ ہی ایسا راستہ جس پر چل کر ہم امن و امان کی ایسی منزل کو پاسکتے ہیں جس کی تلاش میں پوری دنیا سرگرداں ہے۔ امن و امان کی تلاش میں بے شک ایک عالم سرگرداں ہے لیکن کیوں کہ اس نے تقویٰ کی زندگی کو اختیار نہیں کیا ہوا جس کا تقاضہ ہر فردوبشر سے اس کا اللہ کرتا ہے اس لئے لاکھ تلاش و بسیار کے باوجود اس منزل تک پہنچنے میں ناکام نظرآتا ہے۔ آخرت میں تو تقویٰ ہی ایک ایسا راستہ ہے جو جنتوں کا حق دار بنا سکتا ہے لیکن دنیا بھی تقویٰ اختیار کئے بغیر جنت نظیر نہیں بن سکتی۔
        تقویٰ کے اس مفہوم کو سامنے رکھا جائے اور پھر اس بات پر غور کیا جائے کہ رمضان کے روزوں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وہ انسان کے اندر تقویٰ کے سارے اوصاف پیدا کر دیتی ہے یا روزے رکھنا تقویٰ کے سارے اوصاف پیدا کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔


        میں نے اپنے زندگی کا پہلا روزہ جون جولائی جیسے جھلسا دینے والے مہینے میں رکھا تھا۔ گر میاں اور وہ بھی ساٹھ باسٹھ برس پہلے بہاولپور کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جو چراغ بتی کا زمانہ کہلاتا تھا۔ بجلی کا تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا اور شدید ترین لوؤں کے تھپیڑے جلد کو سیاہ کر دیا کرتے تھے۔ درو دیوار میں اتری ہوئی تپش چہار دیواریوں کو بھٹی کا نمونہ بنا کر پیش کیا کرتی تھی۔ پنجاب کی گرمیاں آج بھی اسی قسم کا نمونہ پیش کئے ہوئے ہوتی ہیں لیکن ان کی شدت کو کم کرنے کیلئے کئی طرح کے اسباب انسانوں نے پیدا کر لئے۔ دور دور تک پھیلے ہوئے ریگستان بھی اب لہلہاتے کھیتوں اور باغوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اس لئے کہا جا سکتا ہے میرے اور آج کے زمانے میں کافی واضح فرق ہو گیا ہے۔ نادانی کا یہ زمانہ یقیناً ایسا تھا جب ننہا سا دل “تقویٰ” کے ان مفاہیم سے بھی نا آشنا رہا ہوگا جس کا ادراک عمر کے ساتھ ساتھ ہوتا چلا گیا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ سارا دن، وہ کیا احساس تھا جو مجھے سخت بھوک اور خاص طور سے پیاس کی شدت کے باوجود کھانے یا پیاس بجھانے کیلئے پانی پینے سے روکے رکھے ہوئے تھا۔ بس یہی احساس کہ میں بالکل تنہا بھی ہوں تب بھی کوئی ایسا ہے جو مجھے میرے اندر اور باہر سے دیکھ رہا ہے۔


        بے شک ہر اللہ کے سچے بندے کو ہر ہر لمحے یہ احساس رہتا ہے کہ کوئی ہے جو اسے جلوت اور خلوت میں اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہے لیکن رمضان میں عین روزے کی حالت میں یہ احساس اتنا شدید ہو جاتا ہے جس کواحاطہ فکر میں لانا بھی نہایت مشکل ہے۔ ر وزے کی حالت میں جب کسی کی جانب سے کوئی زیادتی کی جا رہی ہوتی ہے تو وہ اپنی ناگواری پر قابو رکھتا ہے، کسی کی اوچھی گفتگو کا جواب شستگی و شائستگی سے دیتا ہے، تول کرتے ہوئے کسی قسم کی ڈنڈی مارنے سے گریز کرتا ہے، ادائیگی کرنی ہو تو ایک ایک دھیلے کا حساب رکھتا ہے، غریب کی بھوک اسے محسوس ہونے لگتی ہے، پانی سے دور دراز بستیوں میں پانی کی کمی اس کی بے چینی کا سبب بن جاتی ہے، جب وہ خود شدید بھوک محسوس کر رہا ہوتا ہے یا پیاس کی شدت اس کے ہونٹوں کو بار بار خشک کرکے پانی پینے اور کھانا کھانے کیلئے اکسا رہی ہوتی ہے تو وہ کون سے ہاتھ ہیں جو اس کو کھانے اور پانی پینے سے روکے ہوئے ہوتے ہیں۔


        بے شک اللہ تعالیٰ کے بعد اگر ایک انسان کو کسی بھی قسم کی برائی اختیار کرنے اور گناہوں کی دلدلوں کی جانب بڑھنے سے روک رہی ہوتی ہے تو وہ معاشرہ ہی ہوا کرتا ہے۔ عزت و بے عزتی کا احساس اسے سب کے سامنے برائی کرنے سے باز رکھتا ہے لیکن تنہائی ایک ایسی چڑیل ہے جو کسی بھی انسان کو کسی بھی شیطانی کاموں میں ڈال دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ روزے کی حالت کیا کسی نوجوان شادی شدہ جوڑے کیلئے کشش نہیں رکھتی ہو گی، کیا دنیا کی لذتیں حسین سے حسین روپ دھار کر اس کی ہر قسم کی اشتہا کو مہمیز نہیں بخشتی ہوگی، پیاس اور بھوک اسے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے نہیں اکساتی ہو گی، مال و دولت کی چاہت اسے کم تولنے کی دعوت نہیں دیتی ہوگی اور کیا اسے ایک انسان کی طرح کام کرنے سے روکنے اور آرام کرنے کے مشورے نہیں دیتی ہوگی۔ یقینا قدم قدم پر اس کے اندر چھپا ہوا شیطان اس کے نفس کو برائی کی جانب اکساتا ہوگا لیکن وہ کونسی قوت ہے جو اس کے پائے ثبات میں ہلکی سی لغزش تک نہیں آنے دیتی، یہ ہے وہ سوال جس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ اس ایک اللہ کی موجود کا یقین جس کو وہ اپنی شہ رگ سے بھی قریب پاتا ہے۔ اسی ڈر، اسی احساس اور اسی خوف کا نام ہی “تقویٰ” ہے جو عام دنوں اور مہینوں سے کہیں زیادہ حالت روزہ میں پیدا ہوتا ہے۔


        جس شخص میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے سے قریب ہونے کا احساس اس حد تک پیدا ہو جائے تو ذرا تصور کریں کہ کیا وہ اندھیرے، اجالے، جلوت یا خلوت میں اپنے یا کسی کے ساتھ بھی کسی ایسے فعل کا مرتکب ہو سکتا ہے جس کا ارتکاب کرنے کے بعد وہ اس اللہ کا سامنا کر سکے جو اسے خود اپنے آپ سے بھی کہیں قریب سے دیکھ رہا ہے۔
        جب ہم اپنی عام زندگی میں کوئی ایک عمل بھی ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے جسے کرنے کے بعد دیکھنے والے کی نظروں میں گر جائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے اللہ کے سامنے کوئی ایسا عمل اختیار کرنے کی جرات کر سکیں جس میں اس کی ناراضگی شامل ہو۔


        عام طور پر یہ بات مشاہدوں میں آتی ہے کہ اگر کوئی ہمیں ایسا پیشہ جس کو “معمولی” سمجھا جاتا ہو، اختیار کرنے سے بھوکے یا بے روز گار رہنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں لیکن کسی دوسرے ملک جاکر اس سے بھی کسی کم تر پیشے کو اپنا لینے میں کسی قسم کی کوئی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، محض اس لئے کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ہر فرد کو ہماری حیثیت کا علم ہوتا ہے۔ ان کے سامنے اپنی حیثیت سے کم درجے کا کوئی بھی پیشہ اختیار کرنا ہمارے لئے باعث ذلت کام لگتا ہے جبکہ وہی یا اس سے بھی کمتر کسی پیشے کو ایسی جگہ یا ملک میں میں اختیار کرنا جہاں ہمیں جاننے والا کوئی نہ ہو تو ہم اسے اس لئے اختیار کر لیتے ہیں کہ وہاں کے سب افراد ہماری معاشرتی حیثیت سے لا علم ہوتے ہیں۔


گویا عزت و ذلت کے احساس کا تعلق دیکھنے والے کی واقفیت اور نا واقفیت سے چولی دامن کے ساتھ کا سا ہوتا ہے۔ اب ذرا تصور کریں کہ ایسی آنکھیں جو ہماری سوچوں، خیلاوں اور دل میں لینے والی ایک ایک امنگ تک کے مطالب و معنی کو دیکھ، پڑھ اور سمجھ سکتی ہوں اور ہماری ایک ایک سانس کا حساب تک رکھنے پر قادر ہوں، کیا اس کے احکامات کی خلاف ورزی ہمارا وجود ہلاکر نہیں رکھ دیں گی۔ اللہ کو اپنے اسی طرح قریب محسوس کرنے کرنے کا دوسرا نام ہی تقویٰ ہے اور جب تک اللہ کے قریب ہونے کا ایسا ہی احساس کسی کے دل میں اجاگر نہیں ہوگا اسے کسی طرح بھی متقی نہیں کہا جا سکتا۔


        روزہ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو اس احساس کو ، اللہ تعالیٰ کو شہ رگ سے بھی قریب موجود ہونے کے خیال کو پیدا کرتا ہے اور یہی ایک پاکیزہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرکے ایک جانب اپنے لئے جنت کے باغوں میں جگہ بنائی جا سکتی ہے تودوسری جانب دنیا میں بھی عزت و وقار کا وہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے جو رہتی دنیا تک ہمارے نام کو زندہ رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ پوری دنیا کو اگر امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے تو ہر انسان کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ صرف اور صرف خوف خدا جس کا دوسرا نام تقویٰ ہے، کے ذریعے ہی بنایا جا سکتا ہے اور تقویٰ کسی بھی فرد کے ایک ایک انگ میں اس وقت تک سرائیت نہیں کر سکتا جب تک وہ رمضان کے مہینے میں اللہ کے حکم کے مطابق روزے نہ رکھے۔ لہٰذا تمام جن و بشر کیلئے فرض ہے کہ جب بھی وہ اس ماہ مبارک کو پائیں، اُس کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیں اور کسی شرعی عذر کے سبب اس ماہ کے روزے پورے نہ کر سکیں تو ان کی گنتی بہر صورت پوری کریں بصورت دیگر وہ اللہ کی پکڑ سے نہ بچ سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: