رشوت کی حرمت احادیث کی روشنی میں

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا مقصد اولین اور مشن ہی یہ تھاکہ اس کرہ ارض پر خداءے وحدہ لاشریک کا اطاعت گذاری ایسا معاشرہ وجود میں آجائے ۔جو ہر کوئی گوشہ اور ہر حیثیت سے اس طرح مکمل ہو کہ آنے والی نسلیں اسے نمونہ عمل اور مشعل رہ بنائیں اور اس کے نقش قدم پر چلیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج اور سوسائٹی سے تمام برائیوں کی جڑ کاٹتے ہوئے رشوت پر بھی شدید نکیر فرمائی ہے ۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت کو خدا تعالی کی رحمت سے دوری اور لعنت کا موجب قرار دیا ہے ۔جس کا سلسلہ کئی پشتوں تک جاری رہتا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے ۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تبارک تعالی نے میں نے رشوت کھانے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے اور اس شخص پر جو ان دونوں کے درمیان دلال واسطہ بنے ان سب پر لعنت کی ہے ۔

احادیث سے ثابت ہوا کہ رشوت دینے والے اور لینے والے اور اس شخص پر جو ان دونوں کے درمیان دلال اور واسطہ بنے ان سب پر لعنت کی ہے ۔

احادیث سے ثابت ہوا ہوا کہ رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں کے درمیان سمجھوتے کرانے والے تینوں پر لعنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رشوت کا دلال بھی دینے اور لینے والے کے برابر گناہ گار ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: