نبی علیہ السلام اور ایک پتھر

اس روایت سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ ایک روز نبی علیہ السلام کا ایک پتھر کے پاس سے گزر ہوا اس میں سے بہت پانی خارج ہوتا تھا آپ بہت متحیر ہوئے تو اللہ تعالی نے پتھر کو قوت گویائی عطا فرمائی تو وہ کہنے لگا جب سے اللہ تعالی کا یہ حکم میں نے سنا ہے:۔ ( دوزخ کا ایندھن لوگ ہیں اور پتھر)۔

اس وقت سے میں خوفزدہ روتا رہتا ہوں تو پیغمبر علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ اس کو آگ سے اللہ تعالی پناہ عطا فرمائے بس اللہ تعالی نے پناہ عطا فرمائی عرصہ گزرنے کے بعد ان کا پھر وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اب بھی پتھر روتا ہے دریافت کیا کہ اب رونے کا سبب کیا ہے اس نے عرض کیا وہ رونا بوجہ خوف تھا اور اب خوشی اور شکر کا رونا ہے اس بندے کا دل بھی مانند پتھر کے یا اس سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے اور وہ سختی اورشدت خوف کے باعث یا شکر ادا کرتے ہوئے رونے کے ذریعے جاتی رہتی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے روز قیامت ندا ہوگی حمد کرنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوں تو لوگوں کی ایک جماعت اٹھے گی ان کے واسطے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور وہ جنت میں چلے جائیں گے عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمد کرنے والے کون لوگ ہیں تو فرمایا کہ وہ جو ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں دیگر ایک روایت میں یہ الفاظ ہے جو دکھ میں اور سکھ میں اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: