ایماندار شخص کی قبر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایماندار شخص اپنی قبر میں سبز باغ میں رہتا ہے قبر کو ستر گز تک وسیع کر دیتے ہیں اور وہ یوں چمکتی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند کیا تم کو معلوم ہے کہ

یہ آیت( اس کی معیشت تنگ ہوگئی) کس کے متعلق نازل ہوئی ہے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ تعالی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں یہ کافر کے عذاب کے بارے میں نازل شدہ ہے اس کی قبر کے اندر اژدھاؤں کو مسلط کر دیا جاتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ ثنین کیا ہے۔ ثنین فی الحقیقت 99 سانپ ہیں اور ہر سانپ سات سروں والا ہوتا ہے اور وہ تا روز قیامت اسے ڈستے رہتے ہیں ڈنگ مارتے ہیں پھونکے مارتے ہیں۔ مخصوص عدد پر حیران نہ ہو کیونکہ ایسے سانپوں بچھووں کی تعداد اس کے برے اخلاق تکبر یا حسد خیانت کینہ اور جملہ اخلاق کے برابر ہوتی ہے ان سب صفتوں کے معینہ اصول ہیں پھر ان سے مقرر شدہ شاخیں نکلتی ہے پھر ان شاخوں کی متعدد قسمیں ہوتی ہے اور یہ صفات ہی اسے ہلاک کرتی ہیں یہی سانپ اور بچھو بن جاتی ہیں جو برائی اس کافر میں زیادہ راسخ ہوگی وہ ثنین کی مانند سخت ڈستی ہے جو ذرا کم ہوگی وہ بچھو کی طرح ڈنک مارے گی اور درمیان والے سانپ کی مانند ڈسیں گی۔ اہل دل اور بصارت والے لوگ نور بصیرت سے ان مہلک چیزوں کو انکی شاخوں کو دیکھتے ہیں۔ مگر ان کی تعداد کو نور نبوت سے ہی جانا جاتا ہے۔ ان روایتوں کے صحیح ظواہر اور پوشیدہ اسرار ہیں اور اہل بصیرت کے نزدیک یہ واضح ہے اور جس پر ان کی حقیقت واضح نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ ظواہر کا انکار مت کریں بلکہ کمتر مرتبہ ایمان تصدیق اور اقرار کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: