تکبر اور اراز

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جس نے ان دونوں باتوں میں مجھ سے جھگڑا کیا اس کو جہنم میں داخل کروں گا اور مجھ کو کچھ پرواہ نہ ہے۔ اور حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ صفا کے اوپر حضرت ابن عمر و رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ملے دونوں میں موافقت ہوئی

اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر وہاں سے رخصت ہوگئے۔ اور اب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہیں کھڑے کھڑے روپڑے لوگوں نے پوچھا اے عبدالرحمن آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ ان کا یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ گمان ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سماعت کیا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے ایک دانہ برابر تکبر موجود ہو اس کو منہ کے بل دوزخ میں پھینکا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے انسان چلا جاتا ہے یعنی زندگی بسر کرتا جاتا ہے اس کو جبار لوگوں میں درج کر لیا جاتا ہے جبار سے مراد ہے متکبر اور ظلم کرنے والے پھر اس کا وہ عذاب ہی ملتا ہے جو جباروں تکبر کرنے والوں کو کو ہوتا ہے۔ سلیمان علیہ السلام بن داؤد علیہ السلام نے ایک مرتبہ پرندوں انسانوں جنات اور جانداروں کو حکم فرمایا کہ جب باہر آجائے پس دو لاکھ انسان اور دو لاکھ جنات باہر آگئے یہ تخت نشین ہو کر بلندی پر چلے گئے حتی کے آسمان پر ملائکہ کی تسبیح سنائی دی اس کے بعد نیچے آگئے ہیں سمندر کو پاؤ آ لگے تو یہ آواز سنائی دی اگر تم لوگوں کے اس ساتھی یعنی سلیمان علیہ السلام کے دل کے اندر ذرہ برابر تکبر موجود ہوتا تو جتنی رفعت پر اس کو لے جایا گیا ہے اس سے بڑھ کر پستی میں دھنسا دیا جاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: