دو محافظ فرشتے

علاوہ ازیں دو محافظ فرشتے بھی دکھائی دیں گے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ مرنے والے شخص کو دو فرشتے اس کے اعمال دکھاتے ہیں یہی وہ نیکی بدی درج کرنے والے فرشتے ہیں اگر وہ نیک شخص ہو تو اسے کہتے ہیں کہ تجھ کو اللہ تعالی اچھی جزا عطا فرمائے تو ہم کو متعدد اچھی مجالس میں بٹھاتا رہا ہے ۔

اور کوئی برا شخص ہو تو اسے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تجھے اچھی جزا نہ دے تو نے ہمیں متعدد بری مجالس میں بٹھایا اور ہماری موجودگی میں تو نے برے عمل کیے اور ہم کو تو نے بری باتیں سنائیں اللہ تعالی تجھے ہماری طرف سے اچھی جزا نہ دے مرنے والے کی نظر انکی جانب جمی ہوتی ہے اور وہ دنیا میں پھر کبھی واپس نہ آئے گا۔ سوم یہ ہے کہ نافرمان لوگ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ دیکھتے ہیں اور دیکھنے سے قبل خوف اور خطرہ ہوتا ہے جس وقت وہ سکرات موت میں ہوتا ہے ان کی روح تیار ہوتی ہے کہ باہر نکلے مگر دو میں سے ایک بشارت جس وقت تک وہ فرشتے سے نہ سن لے وہ باہر نہیں نکلتی ہے ایک یہ ہے کہ ایک دشمن اللہ تعالی کے تجھے دوزخ کی خوشخبری ہے یا یہ کہ اے اللہ کے دوست جنت کی بشارت لے لے اہل عقل اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص بھی دنیا میں سے نہ نکلے گا تاکہ وہ یہ نہ جان لے کے وہ کہاں جائے گا جب تک کہ وہ اپنے مقام کو جنت میں یا دوزخ کا مشاہدہ نہ کر لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: