عقل والے حضرات

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عقل والے حضرات ہمیشہ ذکر بالفکر کرتے رہتے ہیں حتی کہ ان کے دل ہی کلام کرنا شروع کر دیتے ہیں پھر حکمت پر مبنی کلام کرتے ہیں حضرت اسحاق بن خلف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ایک چاندنی رات روشن تھی اور داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ مکان کی چھت پر تشریف رکھتے تھے وہ آسمان اور زمین کے متعلق فکر کرنے لگے آسمان کو دیکھ کر روتے تھے اور روتے ہوئے وہ پڑوس کے گھر میں جا گرے۔ پڑوسی فور اپنے بستر سے اٹھا اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اس کا گمان تھا کہ کوئی چور آدھمکا ہے

پھر وہ حضرت داؤد کو دیکھ کر لوٹ گیا تلوار رکھی اور آپ سے پوچھنے لگا کہ کس نے آپ کو چھت سے نیچے پھینک دیا ہے آپ نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی خبر ہی نہیں ہوئی۔ حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ایسی مجلس عمدہ ترین اور اعلی مرتبہ کی ہوتی ہے جس میں توحید کی فکر ہو نسیم معرفت سے استفادہ ہو۔محبت کے سمندر سے محبت کا جام پیتا ہو اور اللہ کے ساتھ حسن ظن ہو پھر آپ نے فرمایا کہ کتنا لزت بخش ان کا مشروب ہے جس کو یہ حاصل ہوجائے اس کے حق میں خوشخبری ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خاموشی کے ساتھ کلام کرنے اور فکر کے ساتھ استبناط کرنے میں مدد لو اور یہ بھی فرمایا کہ تمام امور میں صائب نظر ہونا ذریعہ ہے فریب سے چھٹکارے کا اور رائے میں عزم پختہ ہی افراط و تفریط اور شرم ساری سے بچے رہنے کا سبب ہوتا ہے دیکھنے اور فکر کرنے سے ذہن کو جلا ملتی ہے۔ حکماء کے ساتھ مشاورت سے نفس ثابت قدم اور عقل اور بصیرت قوی ہوتی ہے پس عظم کرنے سے پہلے سوچ لو حملہ آور ہونے قبل سوچ لو اور حملہ آور ہونے سے قبل غور و فکر کر لو اور آگے قدم رکھنے سے قبل مشورہ کرو اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ چار فضائل ہے۔ ایک حکمت ہے اور وہ فکر سے درست ہوتی ہے دو عفت ہے وہ شہوت پر کنٹرول کرنے سے درست ہوتی ہے سوم قوت ہے وہ غصہ کنٹرول کرنے سے درست ہوتی ہے چہارم عدل وہ قواۓ نفس اعتدال پر ہے تو درست ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: