عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ

نقل ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے قبل از خلافت حج ادا کیا وہاں ان کو حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں دیکھا کہ وہ اترا اترا کر چلتے تھے تو ان کی طرف اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا اس کی چال ایسی نہیں ہوتی جس کی شکم میں پاخانہ ہو

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے معافی چاہتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے اپنی اس چال کی وجہ سے اتنی مار پڑ گئی ہے کہ مجھے سمجھ آگئی ہے ۔
حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ کو انکا فرزند اکڑ اکڑ کر چلتا ہوا دکھائی دیا تو آپ نے اس کو بلا کر فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیری والدہ کون ہے میں نے اس کو ایک سو درہم میں خریدا تھا اور تیرا والد یہ ہے کہ مسلمانوں میں اللہ تعالی اس طرح کے آدمیوں کی کثرت نہ ہی کرے۔ ایک آدمی اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا تو فرمایا شیطان کے برادر بھی متعدد ہے اس جملے کو دو یا تین مرتبہ فرمایا اور منقول ہے کہ مطرف بن عبداللہ بن شیخر نے مہلب کو ریشمی جبے میں متکبرانہ طور پر چلتے ہوئے جاتے دیکھا تو فرمایا اے بندہ خدا یہ ایسی چال ہے جسے اللہ تعالی اور اس کے رسول متفر ہے مہلب بولا کیا تم مجھے جانتے ہو انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں تجھ سے واقف ہوں تو ایک گندے قطرہ سے آغاز پذیر ہوا اور بدبودار مردار تیرا انجام ہے اور اس درمیان کی مدت میں تو اپنے اندر گند گی اٹھائے پھرتا ہے

اس نے یہ سنا تو اس چال کو چھوڑ دیا ایک شاعر نے اس طرح سے کہا ہے۔ ( مجھے حیرانی ہوتی ہے اپنی صورت پر اکڑنے والے سے کہ ابھی کل ہی تو یہ ایک گندا قطرہ ہی تھا پھر اس خوبصورتی کے بعد آئندہ کل کو اس نے پھر قبر میں قابل نفرت مردا رہی ہو کر رہ جانا ہے)۔ ( ہمارے ساتھی کو عشق ہے وعدہ خلافی سے کثرت سے خطائیں کرنے والا ہے اور اچھا عمل کم ہی کرتا ہے ایک جھگڑالو عورت سے بھی بڑھ کر جھگڑا کرنے والا اور جب چلے تو کوے سے بھی بڑھ کر تکبرانہ انداز اختیار کرنے والا)۔ ایک اور شاعر نے بھی اس طرح سے کہا ہے: ( متکبر کو میں نے کہا جب اس نے کہا کہ مجھ جیسوں سے پوچھ گچھ نہیں کی جاتی کہ تو تو قریب عہد میں دنیا سے جانے والا ہے پھر کیوں تواضع اختیار نہیں کرتا)۔ اور حضرت زو النون نے اس طرح سے فرمایا ہے۔ ( اے تکبرسے اونچے جس کو کوئی پوچھے تک نہیں ہم مٹی سے پیدا ہوئے تیرے اوپر سلامتی ہو یہ زندگی تو عارضی سا فائدہ ہی ہے اور بعداز مرگ تمام برابر ہو گئے)۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے۔ ( پھر وہ اپنے اہل خانہ کی جانب لمبا ہوتا ہوا گیا)۔ اس کے متعلق حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہاں مراد ہے کہ وہ اکڑتا ہوا آگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: