روز قیامت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسولُ اللّٰهﷺ نے ارشاد فرمایا۔روز قیامت بندے سے اولین پرسش نعمتوں کی ہو گی۔اسکو کہا جائے گا کیا تیرا صحتمند جسم نہ بنایا تھا۔تجھ کو وہاں ٹھنڈا پانی نہ پلایا تھا؟ اور صحیح مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف فرما ہوئے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے ملےآپ نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی چیز تمہیں گھر سے باہر لائی ہے۔

انہوں نے کہا یارسول اللہ بھوک۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ جو چیز تم کو گھر سے نکال لائی ہےاسی نے مجھے بھی نکالا ہے لہذا اٹھوپس وہ دونوں آپ کے ساتھ اٹھے اور انصار میں سے ایک صحابی کے گھر جا پہنچے۔ وہ صحابی اپنے گھر میں موجود نہ تھے۔ ان کی زوجہ نے دیکھ کر کہا خوش آمدید۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں کہاں ہے۔ اس نے عرض کیا وہ ہمارے واسطے ٹھنڈا اور میٹھا پانی لینے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ اچانک ہی وہ انصاری صحابی بھی آ پہنچے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دونوں صحابہ کو دیکھ کر کہنے لگے:۔ حمد تمام تر اللہ تعالی کے لیے ہے کہ آج کے دن مکرم ترین مہمان میرے ہاں تشریف لائے۔ بس وہ چلے گئے اور ایک خوشہ کھجوروں کا لے آئے جو خشک و تر کھجوروں پر مشتمل تھا۔ اور عرض کیا ابھی آپ یہ کھائیں ازاں بعد اس نے بکری کو پکڑ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دودھ دینے والی بکری ذبح مت کرنا۔ دوسری بکری ذبح کرلی۔ انہوں نے بکری کا گوشت تناول فرمایا اور اس کا دودھ نوش فرمایا۔ جب آپ کھا پی کر خوب سیر ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ارشاد فرمایا قسم ہے مجھ کو اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس نعمت کے بارے میں روز قیامت ہم سے پوچھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: