جب مرنے والے کو قبر میں رکھتے ہیں

حضرت یزید کاشی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم کو یہ روایت پہنچی ہے کہ مرنے والے کو جس وقت اس کی قبر میں رکھتے ہیں تو اس کے اعمال اسے وحشت زدہ کر دیتے ہیں پھر اللہ تعالی ان کو کلام کرنے کی قوت عطا فرماتا ہے

اور وہ کہتے ہیں ایسے شخص جو گھڑے میں اب اکیلا ہی رہ گیا ہے تیرے تمام احباب اور اہلخانہ واپس تجھ سے دور جا چکے ہیں اور آج تیرا کوئی انیس ہمارے علاوہ نہیں ہے۔ حضرت کعب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کوئی نیک بندہ جب قبر میں رکھ دیتے ہیں تو اس کے کئے ہوئے نیک اعمال بھی اس شخص کو وحشت زدہ پاتے ہی یعنی حج نماز روزہ جہاد صدقہ راوی نے بیان کیا ہے کہ پھر پاؤں کی جانب سے عذاب کے ملائکہ آ جاتے ہیں تو انہیں اس کی نماز کہتی ہے اس سے پرے ہٹ جاؤ اس کی جانب تمہیں راستہ میسر نہیں ہے۔ یہ شخص اپنی ان ٹانگوں پر نماز پڑھا کرتا تھا اس کے بعد وہ فرشتے از جانب سر آنے لگتے ہیں تو روزہ ان سے کہتا ہے اس کی جانب آپ کو راستہ نہیں ملے گا کیونکہ وہ دنیا میں فی سبیل اللہ پیاس برداشت کرتا رہا ہے لہذا اس کی طرف تم کو راہ حاصل نہیں ہے۔

ازاں بعد وہ بدن کی جانب سے آتے ہیں اس وقت حج اور جہاد کلام کرتے ہیں اس سے دور چلے جاؤ اس نے اپنی جان کو محض اللہ تعالی کے لیے قائم کیا اور اپنے جسم کو تھکاتارہا۔ اس نے حج ادا کیا جہاد کیا لہذا اس کی طرف تم کو راہ میسر نہیں ہے اس کے بعد وہ سامنے سے آتے ہیں تو صدقہ کلام کرتا ہے کہ میرے ساتھی سے باز آجاؤ اس سے متعدد صدقات کی ہے۔ جو صرف رضائے الہی کے تحت اس کے ہاتھوں سے نکلتے رہے تھے اور اللہ تعالی کے ہاتھ میں چلے گئے بس اس کی جانب آپ کے لیے کوئی راہ نہیں ہے راوی کا بیان ہے کہ پھر اس کو کہہ دیا جاتا ہے تجھے مبارک ہو تو اپنی زندگی میں اچھا ہی رہا اور موت میں بھی تو خوب رہا ہے۔ اس کے پاس رحمت کے فرشتے آ جاتے ہیں اور اس کے واسطے جنت کے اندر بستر بچھایا جاتا ہے اور اس کو اوڑھنے کے واسطے جنتی چادر ادا ہوتی ہے اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر کو وسعت دی جاتی ہے جنت سے قندیل فراہم ہو جاتی ہے اور اس کی قبر اس کے ذریعے منور رہتی ہے تاکہ اللہ تعالی اس کو اٹھائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: