اللہ بندے کے ساتھ کب ہوتاہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میری خاطر ہلتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ابن آدم کو اللہ تعالی کے عذاب سے چھٹکارا دلانے والی چیز اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اور فی سبیل اللہ جہاد بھی نہیں؟

آپ نے فرمایا اور نہ فی سبیل اللہ جہاد ہی سوائے اس کے کہ وہ اپنی تلوار کے ساتھ مارتا جائے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے پھر اس کے ساتھ تو مار یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا گیاکہ کیا عمل افضل ترین ہے تو آنجناب نے فرمایا یہعمل کہ تیری موت آے اور تیری زبان تر ہو زکر الہی سے۔ رسولُ اللّٰهﷺ نے فرمایا ہے تم صبح و شام اس طرح کیا کرو کہ تمہاری زبان تر ہو اللہ کے زکر سے پھر تم یوں صبح و شام کرو گے کہ تمہارے اوپر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ جناب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ میرا کوئی بندہ جس وقت مجھے اپنے دل میں یاد کرے۔ تو میں بھی اس کو اپنے دل تنہائی میں یاد کرتا ہوں اور جب کسی جماعت کے ساتھ مجھے وہ یاد کرے تو میں بھی اسکو اسکی جماعت سے بہتر جماعت کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ جس وقت وہ میری طرف ایک بالشت نزدیک آۓ تو میں ایک باغ اسکی طرف قریب ہوتا ہوں۔جب وہ چلتا ہوا میری جانب آۓ میں دوڑتا ہوا اسکی طرف جاتا ہوں۔ رسولُ اللّٰهﷺ کا ارشاد ہے سات اشحاص ہیں جنہیں اللہ اپنے ساۓ میں رکھے گا جس روز کہ کوئ سایہ نہیں ہوگا بخز سایہ الہی کے۔ان میں ایک شحص وہ ہے جو تنہائ میں زکر الہی کرتا ہے اور پھر اسکی آنکھوں میں خوف الہی سے آنسو آجائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: