نماز ایماندار لوگ

اللہ نے ارشاد فرمایا ہے (بے شک نماز ایمانداروں پر مقرر اوقات پر ادا کرنا فرض ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے نمازیں پانچ ہیں۔جو اللہ نے فرض کی ہے۔ جو شخص وہ ادا کر کے آئے گا اور ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے ان میں سے کچھ ضائع نہ کرے گا۔ اس کے واسطے عند اللہ وعدہ ہے اس کو جنت میں داخل کرے گا۔

اور جو شخص ان کو ساتھ لیتے ہوئے نہ آئے گا عند اللہ اس کے واسطے کچھ وعدہ نہیں ہے وہ چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا اور چاہے گا تو اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے نماز پنجگانہ کی مثال یوں ہے جیسے بہت زیادہ میٹھے پانی والی نہر تم میں سے ہر شخص کے دروازے پر بہ رہی ہو۔ اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے پھر کیا جانتے ہو تم کے اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گا۔ انہوں نے عرض کیا کچھ نہیں رہے گا۔ تو آپ نے فرمایا یہ پنجگانہ نماز کی مثال ہے کہ معاصی یوں دھل جایا کرتے ہیں۔ جس طرح میل کو پانی صاف کر دیا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے نمازیں کفارہ ہے ایک سے دوسری نماز تک۔ درمیانی وقت کے لئے اگر کبیرہ معاصی سے محفوظ رہے جیسے کہ ارشاد الٰہی ہے: ( بلاشبہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیا کرتی ہیں)۔ ‏ یذھبن سے مراد ہے کہ برائیاں یوں دور کر دیتی ہے جیسے کہ وہ ہوئی ہی نہ تھیں۔ شیخین اور دیگر محدثین حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہو گیا اور اسے بیان کیا یعنی وہ اس کے کفارے کو جاننا چاہتا تھا۔ تو اس وقت اس آیہ کریمہ کا نزول ہوا۔( اور قائم کر نماز کو دن کی دونوں طرف آخر تک)۔ وہ شخص عرض گزار ہوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرے ہی واسطے ہے یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت کے ہر اس شخص کے واسطے ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: