ارشاد الہی

ارشاد الہی ہے۔ ( اگر تم کو علم الیقین) ۔ یعنی اگر تم لوگوں کو قیامت برپا ہونے کا پکا یقین ہوتا تو اس کے باعث تم زیادہ مال کی حرص اور غرور جتانے سے غافل ہوکر نہ رہ جاتے اور تم نیک کام ہی کرتے اور برائی کو ترک کر دیتے۔ ایک یہ قول بھی ہے۔ اگر تم لوگوں کو وہ علم الیقین ہوتا جو رسولوں علیہم السلام نے تعلیم کیا ہے کہ حسب اور نسب اور مال باعث فخر نہیں ۔ روز قیامت تمہیں ان سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اگر مال اور افراد کی کثرت پر تم نے فخرجتایا تو پھر تم نے جہنم ہی دیکھنا ہے۔

اللہ نے سوگند اٹھائ کہ روز قیامت تم جہنم اور اسکی شدت واضح طور پر لازم یے کہ دیکھ لو گے۔ارشاد الہی ہے۔ (تم نے لازماجہنم کو دیکھنا ہےپھر تم لازما اس کو دیکھو گے یقین کی آنکھ سے)۔ مراد یہ ہے کہ تم کو جہنم بالکل کھلے طور پر دکھائی دے رہی ہوگی کہ تم کو پکا یقین ہوجائے گا اس مشاہدے میں ہرگز شک و شبہ نہ تھا اگر پوچھا جائے کہ علم الیقین اور عین الیقین میں فرق کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو ان کے نبوت کے علم کی وجہ سے علم الیقین ہوتا ہے جب کہ ملائکہ اپنی آنکھوں سے جنت اور دوزخ قلم ا و لوح اور عرش اور کرسی کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں لہذا ان کو عین الیقین حاصل ہوتا ہے اور یوں بھی کہا جا سکتا ہے جو لوگ زندہ ہیں وہ موت اور قبور کا علم الیقین رکھتے ہیں کیوں کہ ان کو معلوم ہے کہ مرے ہوئے لوگ قبروں میں ہے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں کہ قبروں میں وہ کس حال میں ہے جبکہ وہی چیز خود مردوں کے لئے عین الیقین ہے کیوں کہ وہ اندرون قبور خود کو دیکھ رہے ہیں کہ قبر کا اندرونی جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے یا وہ دوزخ کے گھڑوں میں سے ایک گھڑا ہے اور جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علم الیقین قیامت کا علم ہے اور عین الیقین کے معنی ہے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کو دیکھنا اور ایک یہ بھی جواب دے سکتے ہیں کہ علم الیقین علم ہے جنت اور دوزخ کا اور عین الیقین سے مراد ہے ان کو دیکھنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: