ماں ، بیٹا اور بہن

 اہل سلف سے منقول ہے کہ اس کی ایک ہمشیرہ تھی جو مر گئی اس کو دفن کیا گیا تو اس کی قبر کے اندر ہی ایک تھیلی گر پڑھی اور اندر ہی رہ گئی۔ تھیلی میں مال تھا۔ بالآخر تدفین کے بعد رخصت ہو گئے بعد میں یاد آیا تو دوبارہ قبر پر گئے اور لوگ وہاں سے چلے گئے تو اس نے قبر کو کھودا تو دیکھا کہ

قبر میں آگ بھڑکتی تھی۔ اس نے مٹی پھر ڈال دی اور وہ روتے ہوئے غمزدہ اپنی والدہ کے پاس آئے اور کہا اے والدہ صاحبہ مجھے میری بہن کے متعلق بتا دیں کہ وہ کیا کیا کرتی تھی۔ اس نے کہا کہ تو کیوں پوچھتا ہے انہوں نے بتایا۔ اے والدہ صاحبہ میں نے قبر میں دیکھا ہے اس میں آگ کے شعلےبھڑکتے ہیں والدہ کو رونا آگیا اور کہنے لگی۔ اے بیٹے تیری ہمشیرہ نماز میں کاہلی کیا کرتی تھی اور اس وقت سے تاخیر کر کے نماز ادا کرتی تھی۔ پس نماز میں تاخیر کر کے ادا کرنے والے کا حال ایسے ہوتا ہے۔ اور جو بالکل ہی نہ پڑے اس کا حال کیسا بنے گا۔ ہماری بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ ہم کو اللہ نماز کی حفاظت کرنے اور اس کے کمال اور اس کے درست اوقات کو ملحوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے وہ بلاشبہ سخی کریم اور مہربان فرمانے والا رحیم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: