عصر کی نماز

حاکم کی ایک روایت ہے۔اسکی توثیق میں اختلاف راۓ موجود ہے۔مگر اکثریت کا اختلاف نہیں ہے۔اس میں ہے کہ جس نے دو نمازیں بلا عذر اکٹھی کر لیں اس نے کبیرہ گناہ کیا مراد یہ ہے کہ ایک نماز میں اتنی تاخیر کردی کہ دوسری نماز کا وقت ہوگیا۔

صحاح ستہ میں ہے کہ اک شخص کی عصر کی نماز فوت ہوئ تو گویا اس کا اہل و عیال اور مال ضائع ہو گۓ۔صحیح ابن خزیمہ میں اس قدر مزید ہے۔ مالک نے فرمایا ہے کہ اسکی وضاحت یہ ہے کہ وقت گزر جاۓ اور نسائ میں ہے کہ نمازوں میں ایک نماز وہ ہے جسکی وہ فوت ہو جاۓ تو گویا اسکے اہل و عیال اور مال ضائع ہوگۓ یعنی نماز عصر اور مسلم اور نسائ میں لکھا ہے کہ اس نماز سے مراد ہے نماز عصر اسے تم سے پیشتر والے لوگوں پر پیش کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اس کو ضائع کیا۔ اب تم میں سے جس نے اسکی حفاظت کر لی اس کے حق میں دو اجر ہوں گے اور ازاں بعد شاہد یعنی ستاروں کے نمودار ہونے تک کوئی نماز نہیں ہے۔ مسند احمد اور صحیح بخاری اور نسائی میں ہے جس نے عصر کی نماز ترک کی اس کا عمل برباد ہو گیا اور مسند احمد میں بسند صحیح اور ابن شیبہ میں ہے کہ جس نے عصر کو چھوڑا۔ یہاں تک کہ وہ جاتی ہی رہی اس کا عمل ہی برباد گیا۔ عبدالرزاق میں مرسل روایت آئی ہے کہ جس نے بالقصد عصر کی نماز کو چھوڑا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا تو گویا اس کے اہل اور مال ضائع ہوگئے اور شافعی اور بیقہی روایت کرتے ہیں کہ ایک نماز چلی گئی تو گویا کہ اس کے اہل اور مال تلف ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: