نماز کو ترک کرنا

مسند بزاز میں آیا ہے کہ جس کی نماز نہیں اس کا کچھ حصہ اسلام میں نہیں اور جس کا وضو نہ ہوا اس کی نماز نہیں اور مرسل روایت مسند احمد میں آئی ہے کہ چار چیزیں ہیں جن کو اللہ نے اسلام میں فرض کیا ہے جس نے ان میں سے تین کو کرلیا اس کے پھر بھی وہ کسی کام نہیں آئیں گی تاآنکہ وہ تمام نہ ہوں۔

اصبہانی نے روایت کیا ہے کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اللہ اس کا ہر عمل زیست کرے گا اور اللہ کا ذمہ اس سے جاتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ کے آگے توبہ کریں ابن شیبہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا حضرت محمد بن نصر نے فرمایا ہے کہ حضرت اسحاق کو فرماتے ہوئے میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت ہوا ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے ہی اہل علم کی یہی رائے ہے کہ جو آدمی وقت گزر جائے اور بلاعذر نماز چھوڑ دے ایسا شخص کافر ہے حضرت ایوب نے فرمایا ہے کہ نماز چھوڑنا کفر ہے اور اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:۔ پس ان کے بعد ان کے جانشین ہو گئے برے لوگ جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کی اتباع کی وہ جلدی ہی غیی سے ملیں گے مگر جنہوں نے توبہ کرلی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: