روز قیامت عطا شدہ نعمتوں سے سوال

پھر تم کو لازم نہ پوچھا جانا ہے اس دن نعمتوں کے متعلق)۔ یعنی روز قیامت لوگوں سے سوال ہوگا دنیا میں انہیں عطا شدہ نعمتوں کے بارے میں جیسے کہ صحت سماعت بصارت اور کاروبار اور کھانا پینا وغیرہ کہ کیا ان نعمتوں کا بندے نے شکر ادا کیا عطا کرنے والے کی بارگاہ میں۔

کیا کہ اس کی بارگاہ میں انکار ہی کرتا رہا کیا اسے پہچانا اور اس پر ایمان لایا یا کہ اس سے منکر ہی رہا۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ حضرت زین بن اسلم سے اور وہ اپنے والد سے راوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کو پڑھا:۔ ( کثرت کی خواہش نے تم کو غفلت شعار بنایا یہاں تک کہ تم نے قبروں کو جا دیکھا( یعنی مر گئے)ہرگز نہیں۔ جلدی ہی تم کو معلوم ہو جائے گا پھر ہرگز نہیں تم جلدی جان لو گے ہرگز نہیں کاش تم علم الیقین سے جانتے تو ضرور تم دوزخ کو دیکھ لیتے) کیوں کہ دوزخ کے درمیان پر پل صراط رکھا جائے گا پھر بعض مسلمان نجات پالیں گے بعض زخمی ہوجائیں گے اور بعض کو نار دوزخ میں جھلسنے سے زخم ہو جائیں گے۔
(پھر تم کو ضرور پوچھا جانا ہے اس دن نعمتوں کے بارے میں) مثلا پوچھا جائے گا کے تم ٹھنڈا پانی نوش کیا کرتے مکانات کے سائے تم کو میسر آئے تم لوگوں میں بہتر حالت میں رہتے تھے تم نیند سے بھی لطف اندوز ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: