روزانہ ایک ہزار مرتبہ سجدہ

حضرت علی بن عبداللہ بن عباس کے بارے میں مروی ہے کہ روزانہ ایک ہزار مرتبہ سجدہ کیا کرتے تھے لوگوں نے ان کو سجاد نام دیا ہوا تھا اور منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز صرف مٹی پر ہی سجدہ کیا کرتے تھے اور یوسف بن اسباط نے کہا اے نوجوانوں کے گروہ قبل از مرض صحت کے دوران ہی تیزی سے کچھ عمل کر لو اب صرف ایک ہی شخص باقی ہے۔

جس پر مجھےرشک ہے وہ ہے پورا رکوع و سجود ادا کرنے والا لیکن اس کے اور میرے درمیان اب رکاوٹ وارد ہے مراد یہ ہے کہ وہ دور ہے لہذا ملاقات ممکن نہیں ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا ہے مجھے دنیا کی کسی شے پر کوئی افسوس کبھی نہیں ہوا سواۓ سجدے کے مراد یہ ہے کہ سجدہ ترک ہو جائے تو رنج ہوتا ہے حضرت عقبہ بن مسلم نے کہا ہے کہ بندے کی صرف یہی خصلت اللہ پسند کرتا ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات چاہتا ہو اور بندے کی صرف وہی ساعت سب سے بڑھ کر اللہ کے قرب میں ہوتی ہے۔ جس میں وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا ہے کہ بندہ اللہ کے قرب میں سب وقتوں سے بڑھ کر اس وقت ہوتا ہے۔ جب وہ سجدہ کرتا ہے لہذا اس وقت خوب دعا مانگا کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: