اللہ تعالیٰ کی نظر

بعض علماء نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس بندے پر میں نے اپنی نظر ڈالی اور اس کے دل کا زیادہ تر حصہ میں نے اپنے ذکر کے ساتھ وابستہ دیکھا تو میں اس کے امور کا کار ساز ہوں گا۔ میں اس کا ہم نشین ہوں اس سے ہم کلام ہونے والا اور اس کا انیس ہوں اور اس کا غم خوار۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ دو قسم کا ذکر ہے اللہ کا ذکر اپنے۔ اور اللہ کے درمیان ہی کرنا یہ کتنا خوب ہے اور کیا ہی ثواب ہے اس کا لیکن اس سے بھی افضل ترین ہے کہ جن کاموں کو اللہ نے حرام کر دیا ہے ایسے کام کے وقت ذکر الہی کرنا۔ مروی ہے کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت ہر جان پیاسی ہوتی ہے سوائے اس کے جو اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اہل جنت کو کسی امر میں حسرت نہ ہوگی بخز اس ساعت کے کہ جو گزر چکی اور اس میں اللہ سبحانہ کو یاد نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس وقت کوئی جماعت کسی ایک مقام پر بیٹھتی ہے اور اللہ کا ذکر کرتی ہے تو اس کو فرشتے گھیرے میں لے لیتے ہیں ان پر رحمت چھا جاتی ہے اور اللہ کے پاس جو ہوتے ہیں۔ اللہ ان میں اس کو یاد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی قوم اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرے اور وہ صرف اللہ کی رضا ہی چاہے۔ تو آسمان سے ندا کرنے اولا ایک یہ نداء کرتا ہے اٹھو تم مغفرت کیے گئے ہو میں نے تمہاری برائیاں نیکیوں میں تبدیل فرما دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: