عافیت ہی نعمت

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ عافیت ہی نعمت ہے اور یہ بھی فرمایا ہے۔جس نے گندم کی روٹی کھائ اور فرات سے ٹھنڈا پانی نوش کیا اور اسکا رہائشی مکان ہے پس یہی نعمتیں ہیں جن کے بارے میں پوچھا جاے گا۔

رسولُ اللّٰهﷺ سے حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ نے اسی آیہ کریمہ کے بارے سوال عرض کیا تو آپ نے فرمایا میری امت سے بعض لعگ صاف گھی میں شہد ملائیں گے اور گھاڑا کر کے کھائیں گے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہنے فرمایا ہے۔ اس آیت کے نزول پر صحابہ رضی اللہ عنہمے عرض کیا۔یا رسال اللہ ہم کونسی نعمت میں ہیں۔جبکہ ہم نصف سکم تک نان جویں کھاتیں ہیں۔ رسولُ اللّٰهﷺ کو اللہ نے وحی فرمایا کہ ان کو بتادیں کہ کیا تم جوتے نہیں پہنتےہو ٹھنڈا پانی نہیں پیتے ہو یہ بھی نعمتیں ہی ہیں۔ اور ترمزی وغیرہ میں ہے کہ وقت الھکمہ التکاثر کا نزول ہوا تو آنحضرت نے اس آیت سے النعیم تک پڑھا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسولُ اللّٰهﷺ ہم سے کون کون سی نعمت کے بارے پوچھا جاۓ گا۔یہ دو اشیاء پانی اعر کھجوریں ہیں اور ہماری گردنون پر ہماری سیوف ہیں اور سامنے ہمارے دشمن ہیں۔اب کونسی نعمتوں کے بارے میں پوچھا جاۓ گا ۔آپ نے ارشاد فرمایا یہ نعمتیں عنقریب آرہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: