بیمار اور موت

بعض سلف سے نقل کیا گیا ہے کہ عام طور پر وہ بیمار لوگوں سے دریافت کرتے تھے کہ تم نے موت کو کیسا پایا پھر جب وہ خود ہی بیمار پڑے تو ان سے پوچھا کہ تم نے موت کو کیسا پایا تو فرمایا کہ جیسے آسمان زمین پر بند ہے جیسے کہ سوئی کے ناکے میں سے میری جان نکل رہی ہو.

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کا اچانک وارد ہو جانا مومن کے لئے باعث راحت ہوتا ہے اور کافر کے لیے باعث افسوس۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مکحول رحمہ اللہ علیہ راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر مردے کے ایک بال کو آسمان اور زمین والوں کے اوپر رکھ دیں تو اللہ تعالی کے حکم سے سب مر جائے کیونکہ ہر بال کے اندر موت ہے اور جس چیز پر بھی موت وارد ہوں وہ مر جاتی ہے۔ اور نقل ہے کہ اگر ایک قطرہ موت دنیا کے سب پہاڑوں کے اوپر رکھ دیں تو تمام ہی پگھل کر رہ جائے اور منقول ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ وسلم نے وصال پایا تو ان سے اللہ تعالی نے فرمایا اے میرے خلیل تو نے موت کو کیسا پایا تو انہوں نے عرض کیا گویا کہ روئ تر ہو اس میں گرم سلائ ڈال کر کھینچی جائے اللہ تعالی نے فرمایا میں نے تجھ پر اس کو آسان کر دیا تھا اور حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق روایت کی گئی ہے کہ جس وقت ان کی روح اللہ تعالی کے پاس پرواز کر گئی تو اللہ تعالی نے اس سے دریافت کیا کہ اے موسی تو نے موت کو کیسا پایا تو

انہوں نے عرض کیا میں نے خود کو ایسی چڑیا کی مانند پایا جو کڑاہی میں بھونی جارہی ہو کہ نہ وہ مرتی ہو کہ آرام ہو جائے اور نہ ہی نجات پاتی ہو کہ اڑ کر جا سکے اور انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے زندہ بکرے کی مانند خود کو پایا جو قصاب کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور اس کی کھال اتاری جا رہی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایت ہے کہ بوقت وصال آنجناب کے پاس پانی بھرا ایک پیالہ موجود تھا آپ اس میں اپنا ہاتھ کرکے اپنے چہرے پر پھیرتے تھے اور فرماتے تھے: ( اے میرے اللہ میرے اوپر موت کی بے ہوشیوں کو آسان کر دے)۔ جناب سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں ہائے اباجان کتنی تکلیف ہے آپ کو افسوس تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تیرے والد پر آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اے کعب تو ہمیں موت کے متعلق کچھ بیان کر تو انہوں نے فرمایا اچھا یا امیرالمومنین موت ایسی شاخ کی مانند ہوتی ہے جو بہت سے کانٹوں بھری ہو۔ وہ کسی شخص کے پیٹ کے اندر داخل ہو اس کا ہر ایک کانٹا ایک رگ میں چھبا ہوا ہو پھر کوئی آدمی اس کو شدت سے کھینچ لے پھر جو گھسٹ جائے وہ ساتھ ہی گھسٹ جاۓ اور جو رہ جاۓ وہ رہ جاۓ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: