موت کی تلخی

  جیسے تلوار کے ساتھ تین مرتبہ ضرب لگائی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت کی تلخی سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا سب سے زیادہ آسان موت یہ ہے کہ روئی میں کانٹوں والی جھاڑی ہو ۔

جب وہ روئی سے نکالی جائے تو کچھ روئ اس کے ساتھ ہی رہ جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار شخص کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس کو کیا تکلیف ہو رہی ہے اس کی ہر رگ جدا جدا موت کے درد میں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جہاد کی ترغیب دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اگر تم شہادت سے سرفراز نہ ہوئے تو بھی مر جاؤ گے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بستر پر مرنے کی بجائے تلوار کی 1000 ضرب لگنا میں آسان تر سمجھتا ہوں۔ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم تک یہ بات پہنچتی ہے کہ ایک مردہ دوبارہ اٹھنے تک موت کی تلخی کو محسوس کرتا رہتا ہے موت یہ ہے کہ اس کو موت کی تکلیف یاد رہتی ہے اور حضرت شداد بن اوس رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ دنیا اور آخرت کے اندر مومن کے لئے خوفناک ترین چیز موت ہے یہ اس سے بڑھ کر شدید تکلیف دی ہے کہ ارے کے ساتھ چیرا جائے قینچیوں کے ساتھ کاٹا جائے اور دیگوں کے ساتھ اندر ڈال کر ابالا جائے۔

اگر مردے کو پھر سے زندہ کیا جائے اور دنیا میں بھیجا جائے اور اہل دنیا کو وہ موت کی کیفیت بیان کریں تو دنیا والے زندگی سے ہرگز مفاد نہ لیں نہ ہی ان کو نیند میں لذت حاصل ہو۔ حضرت زید بن اسلم اپنے باپ سے راوی ہیں کہ مومن جب اس درجہ و مرتبہ سے محروم رہے جو وہ عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرسکا تو اس کے لئے موت کو شدید کر دیا جاتا ہے اس واسطے کہ وہ سکرات موت اور تکلیف کی وجہ سے جنت میں اس مقررہ درجہ کو حاصل کر سکے اور کافر کا کوئی نیک عمل اگر ایسا ہو جس کا بدلہ اسے دنیا کے اندر ہی نہ دیا گیا ہو تو اس پر موت آسان کی جاتی ہے اس لئے کہ اس کی اس نیکی کا اجر پورا مل جائے ازاں بعد وہ دوزخ میں جاوارد ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: