نماز کا وضو اور نیکیاں

حضرت ابوہریرہ نے کہا ہے کہ جو وضو کرتا ہے اور بہت اچھی طرح سے وضو کرتا ہے پھر وہ نماز کا ارادہ لے کر نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہوتا ہے تاآنکہ نماز کے ارادے سے رہے اور اس کے حق میں ہر قدم پر ایک نیکی درج ہوتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے جس وقت تم میں سے کوئی اقامت سن لیتا ہے تو اس کے لئے پیچھے ہٹ جانا درست نہیں کیوں کہ تم میں سے زیادہ اجر اسے حاصل ہوگا جس کا گھر زیادہ دور ہوتا ہے پوچھا گیا اے ابوہریرہ ایسا کیوں ہے تو انہوں نے فرمایا کثرت سے قدم اٹھانے کی وجہ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوشیدہ طور پر کیے ہوئے سجدے سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ہے جو بندے کو قرب الہی عطا کرتی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ہر وہ مسلمان جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ اللہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے۔ اور منقول ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ مجھے بھی ان میں کردے جو آپ کی شفاعت پانے والے ہیں اور مجھے جنت کے اندر آپ کی مصاحبت عطا فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کثرت سجود سے میری مدد کر۔ اور ایک قول ہے کہ اس وقت بندہ اللہ کے قریب سب سے زیادہ ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے اس ارشاد الہی کا مفہوم بھی یہی ہے۔( اور سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ)۔ نیز اللہ نے فرمایا ہے۔( ان کے چہروں پر سجدوں کے باعث نشان ہیں)۔ اور ایک قول اس طرح سے ہے کہ سجدہ کے وقت زمین سے جاملنا مراد ہے دیگر ایک قول میں اس سے مراد خضوع و خشوع کا نور ہے کیونکہ باطن سے ظاہر پر روشن ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ایک اور قول میں مراد سفیدی اور چمک ہے جو روز قیامت وضو کے باعث چہروں پر ہونے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ابن آدم جب سجدے کی آیت پڑھ کر سجدے میں پڑ جاتا ہے تو شیطان علیحدہ ہو کر گریہ کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے ہائے افسوس ہے کہ اسے سجدہ کرنے کو فرمایا گیا اور وہ سجدے میں چلا گیا اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم فرمایا گیا میں نے انکار کر دیا ہے اب میرے واسطے دوزخ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: