نماز میں تاخیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو نمازوں میں ان کے اوقات سے تاخیر کر دیتے ہیں۔ مسند احمد میں جید سند کے ساتھ، صحیح ابن حبان اور طبرانی میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کے جس نے اس کی حفاظت کر لی تو روز قیامت اس کے واسطے یہ نور بنے گی۔

نہ برہان ہوگی اور نہ نجات ہوگی اور روز قیامت قارون فرعون ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ وہ محشور ہوگا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ اس کا حشر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مال میں مشغول رہا اور نماز سے غفلت کی اب وہ قارون کی مانند ہو گیا۔ لہذا اس کے ساتھ ہی محشور ہوگا اگر ملک کی مصروفیت میں نماز نہیں پڑھی تو پھر فرعون کے طرح ہوگیا اور اس کے ساتھ اٹھایا جائے گا یا وزارت میں مشغول ہوگیا تو یوں ہامان سے مشابہت ہوگی پس اس کے ساتھ حشر ہوگا یا وہ تجارت میں لگا رہا تو اس وجہ سے ابی بن خلف کے ساتھ مشابہ ہوا وہ مکہ شریف میں ایک کافر تھا اور تجارت کرتا تھا لہذا اب یہ اس کے ساتھ محشور ہوگا۔بزاز میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے ( جو لوگ اپنی نمازوں کے متعلق غافل ہیں) کا مطلب دریافت کیا تو آنجناب نے ارشاد فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اصل وقت سے تاخیر کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: