دوزخ کی تعریف

مروی ہے حضرت عبداللہ بن عمر سے سنن ترمذی میں اور تاریخ بخاری میں بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دوزخ کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ ایسے شخص کے واسطے ہے جس نے میرے امتی کے اوپر تلوار کو اٹھایا۔ اور طبرانی اوسط میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت جبرائیل ایک ایسے وقت پر حاضر ہوئے جس وقت کہ وہ نہ آیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانب اٹھے اور فرمایا اے جبرائیل کیا بات ہے کہ تمہارا رنگ میں تبدیل شدہ دیکھتا ہوں۔

عرض کیا میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں جس وقت کہ اللہ نے دوزخ دھونکنے والوں کو حکم دیا ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ کی تعریف بتاؤ جبرائیل نے عرض کیا کہ اللہ نے دوزخ کو حکم فرما دیا تو اس پر ایک ہزار سال آگے جلی اور وہ سفید رنگ ہوگئی اس کے بعد مزید ایک ہزار برس تک جلائے جانے کا حکم فرمایا تو وہ سرخ ہوگی ازاں بعد مزید ایک سال تک آگ بھڑکانے کا حکم فرمایا تو دوزخ سیاہ رنگ کی ہو گئی نہ اس میں اب چنگاری روشن ہوتی ہے اور نہ ہی دوزخ کے شعلے اب بجھیں گے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا اور مبعوث فرمایا۔ اگر دوزخ میں سے سوئی کے ناکے جتنا بھی کھل جائے تو زمین کے تمام باشندے مر جائیں۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ دوزخ کے داروغوں سے اگر کوئی ایک داروغہ اہل دنیا کے سامنے نمودار ہو جائے تو اس کے چہرے کی ہیبت اور اس کی بدبو کی وجہ سے تمام اہل دنیا مر ہی جاۓ۔ اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو رسول بنا کر بھیجا۔ دوزخ کی زنجیروں سے ایک زنجیر جس کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے دنیا کے تمام پہاڑوں پر اگر رکھی جائے تو بہنے لگیں اور زمین کے آخری حصے پر ہی پہنچ کر ٹھہریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: