آپ ﷺ نے فرمایا آئے ابوذر

منقول ہے کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص کے ساتھ میں تلخی کے ساتھ بولا میں نے کہا اے سیاہ رنگ والی کے بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر بہت کچھ ہو چکا بہت کچھ ہو چکا کسی گوری کے بیٹے کو کالی کے بیٹے پر فضیلت نہیں ہے۔ حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ میں لیٹ گیا ۔

اور اس کو میں نے کہا کہ اٹھ کر میرے رخسار پر اپنا پاؤں رکھ اور حضرت انس نے فرمایا کہ صحابہ کسی آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں جانتے تھے پھر بھی آپ کو دیکھ کر صحابہ اٹھا نہیں کرتے تھے اس لئے کہ انہیں معلوم تھا کہ ایسا کرنا آنحضرت پسند نہیں فرماتے کسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کے ہمراہ چلتے تھے تو ان کو فرماتے تھے کہ آگے آگے چلو اور آپ خود ان کے پیچھے چلا کرتے تھے اس لئے کہ اچھی تعلیم دیں اور یا اپنے نفس کو وسوسوں محفوظ رکھیں۔

جس طرح کے آنحضرت نے حالت نماز میں نۓ لباس کو پہنتے تھے اور پھر پرانا لباس زیب تن فرمایا لیتے تھے یہی مفہوم اس عمل میں تھا۔ حضرت علی نے فرمایا ہے اگر کوئی شخص کسی دوزخی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو اسے دیکھ لے جو خود بیٹھا ہوا ہو اور دوسرے لوگ اس کے آگے کھڑے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: