جنت اور دوزخ کی تخلیق

ابو داؤد، نسائی اور ترمذی میں روایت کیا گیا ہے اور امام ترمذی اس کو صحیح کہتے ہیں الفاظ یوں ہیں۔ اللہ نے جب جنت اور دوزخ کی تخلیق فرمائی تو جبرائیل علیہ السلام کو جنت کی جانب بھیجا اور حکم فرمایا کہ اس کی جانب دیکھو اور اس کی طرف بھی دیکھو جو کچھ میں نے اہل جنت کے واسطے تخلیق فرمایا ہے۔ پس وہاں گئے اور جو کچھ اللہ تعالی نے اہل جنت کے واسطے پیدا کر رکھا تھا اس کو دیکھا پھر انہوں نے واپس آکر عرض کیا مجھے تیری عزت کی قسم اس کے بارے میں جو بھی سنے گا اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر حکم فرمایا اور اس کو ناگواریوں سے ڈھانپ دیا گیا۔

فرمایا دوبارہ پھر جاؤ اور دیکھو کہ کیا کیا میں نے اہل جنت کے واسطے تیار کیا ہوا ہے۔ دوبارہ جا کر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ناپسندیدہ باتوں کے ساتھ جنت ڈھانپی ہوئی ہے۔ انہوں نے واپس آکر عرض کیا کہ تیری عزت کی قسم مجھے اب خدسہ ہے کہ اس کے اندر کوئی شخص بھی نہیں جائے گا۔ پھر ارشاد فرمایا کہ دوزخ کی طرف چلے جاؤ اور دیکھو جو کچھ میں نے اہل دوزخ کے واسطے تیار کر رکھا ہے۔ وہ اس جانب گئے اور دیکھ لیا کہ عذاب کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی ہیں۔

پس واپس آئے اور عرض کیا قسم ہے مجھے تیری عزت کی اس کو جس نے سن لیا اس کے اندر داخل نہ ہوگا۔ پھر اس کے اوپر شہوتوں کا پردہ ڈالا گیا۔ پھر ارشاد فرمایا کہ پھر جائے دوبارہ گئے اور دیکھا تو آکر عرض کیا۔ مجھے قسم ہے تیری عزت کی کہ اب مجھے خدشہ ہے کہ ہر کوئی اس میں داخل ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: