خیرات اور گناہ کا ڈر

حضرت حسن نے فرمایا ہے واللہ اس طرح کے قومیں تم سے پیشتر بھی ہو گزری ہیں۔ کہ اگر وہ کنکروں جتنی کثیر مقدار میں بھی سونا خیرات کر دیتے تھے تو پھر بھی گناہ کے شدید ڈر کی وجہ سے خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں کے نجات سے محروم نہ رہ جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کیا تم بھی وہ کچھ سنتے ہو جو میں سنتا ہوں آسمان کڑکڑارہاہےاور یہ حق ہے کہ اسے کڑکڑانا ہی چاہیے۔ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ چار انگل جتنی بھی کوئی جگہ ایسی موجود نہیں ہے جہاں پر اللہ کے آگے کوئی فرشتہ سجدے میں یا قیام میں یا رکوع میں نہیں ہے۔ اور اگر تمہیں بھی وہ معلوم ہوتا جو کچھ مجھے معلوم ہے تو تم تھوڑا ہنستے اور بہت روتے اور تم پہاڑوں میں چلے جاتے اس لیے کہ اللہ کے سخت انتقام اور اس کی بہت بڑی سطوت سے کہیں پناہ ڈھونڈ لو۔

ایک روایت میں یوں ہے تم کو معلوم نہیں کہ نجات حاصل کر لو گے یا کہ نہیں حاصل ہوگی حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک موجود تمام عذابوں کا اگر ایمان والے آدمی کو علم ہوتا تو وہ آتش سے بے خوف ہرگز نہ ہوتا۔ صیحین میں ہے جس وقت آیت پاک( اپنے قریبی رشتے داروں کو خوف دلاؤ) کا آنجناب پر نزول ہوا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے گروہ قریش اپنی جانیں اللہ سے خرید لو۔ میں اللہ کے ساتھ تمہارے کسی بھی کام نہیں آؤں گا۔ اے اولاد عبدالمناف میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام بھی نہیں آ سکتا ہوں۔ اے صفیہ اللہ کے سامنے میں تمہارے بھی کسی کام نہیں آ سکتا ہوں۔ اے فاطمہ تمہیں جیسے خواہش ہو میرے مال سے مانگ لو۔ لیکن اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: