اللہ کا عرش

بخاری اور مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سات کے بارے میں ذکر فرمایا جنہیں اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس روز کوئی اور سایہ موجود نہ ہو گا سوائے اس کے سائے کے۔ ان میں سے ایک وہ ہوگا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے یعنی جو اس کا وعدہ اور اس کا عقاب یاد کرتا ہے گناہ اور نافرمانی کی وجہ سے خوف کھاتے ہوئے اس کے گالوں پر آنسو بہنے لگتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسی آنکھ کو آتش مس نہیں کرے گی جو رات کے آخری حصے میں بوجہ خوف الہی روپڑی اور نہ ہی اس آنکھ کو جس نے فی سبیل اللہ پہرہ دیا۔

حضرت ابو ہریرہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے وہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا جو خوف الٰہی کے باعث رویا حتی کہ تھنوں میں دودھ واپس ہو جائے اللہ کی راہ کا گردہ غبار اور دوزخ کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا ہے اللہ کے خوف سے ایک آنسو بہنا مجھے ایک ہزار دینار صدقہ دینے سے محبوب تر ہے۔
حضرت عون بن عبداللہ نے فرمایا ہے مجھ تک یہ روایت آئی ہے کہ اللہ کے خوف سے نکلنے والے آنسو انسانی جسم کے جس حصے پر لگ جائے وہ دوزخ پر حرام ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک بوجہ رونے کے یوں آواز دیا کرتا تھا جس طرح ابلتی ہوئی ہنڈیا کی آواز ہوتی ہے یعنی آواز آیا کرتی تھی جیسے ہنڈیا جوش مار رہی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: