دروازہ

ترمذی میں صحیح روایت میں ہے کہ جانب مغرب ایک دروازہ ہے وہ چالیس برس یا ستر برس چوڑا ہے۔ جس روز اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی اسی روز توبہ کرنے والوں کے واسطے کھول دیا اس کو بند نہیں کرے گا تاآنکہ سورج مغرب سے طلوع کرے۔

ایک اور صحیح روایت میں ہے کہ جو لوگ توبہ کرتے ہیں ان کے لیے اللہ نے مغرب میں ایک دروازہ بنا رکھا ہے۔ وہ ستر برس کی مسافت کے برابر چوڑا ہے اس جانب سے آفتاب کے طلوع تک اس کو بند نہ فرمائے گا۔ پس اسی جانب اللہ کے اس ارشاد میں موجود ہے:
جس روز تیرے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں گی تو کسی کو بھی اس کا ایمان لانا فائدہ مند نہ ہوگا۔

ایک قول ہے کہ یہ مرفوع روایت میں داخل نہیں ہے نہ ہی یہ پہلی کی صراحت ہے۔ جس طرح کہ بیقہی نے صراحت کی ہے اس کا جواب یوں ہے کہ ایسی رائے پر مشتمل اقوال موضوع کے حکم میں نہیں آتے طبرانی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے سات دروازے بند رہتے ہیں اور ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب سے سورج چڑھے۔
ابن ماجہ بھی جدید سند سے نقل کرتے ہیں کہ اگر تم گناہ کا ارتکاب کر لو اور تمہارے معاصی آسمان کے کنارے پر پہنچ جائے بعد ازاں تم پر خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو تو اللہ توبہ کو قبول فرمائے گا۔

اور حاکمکی روایت جو صحیح بتائی گئی ہے یوں ہے کہ انسان کی سعادت یوں ہے کہ وہ طویل عمر پائے اور اللہ اسے انابت دے مراد ہے کہ اس کو اللہ کی جانب رجوع حاصل ہوجائے اور عبادت کرنے کی توفیق مل جائے۔
ابن ماجہ اور ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم اس کو صحیح کہتے ہیں کہ سب ابنائے آدم گنہگار ہے اور سب سے اچھے گناہگار توبہ کرنے وال ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: