غساق سے کیا مراد ہے

مسند احمد اور حاکم میں مروی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ غساق کا ایک ڈول دنیا پر اگر انڈیل دیا جائے تو تمام دنیا بدبودار ہوجائیگی اور غساق سے مراد گرم پانی اور پیپ ہے۔ جیسے کہ فرمایا گیا ہے( پس اس کو چکھو گرم پانی اور پیپ)۔ نیز فرمایا ہے( مگر گرم پانی اور پیپ)۔ اس میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک غساق بد بو والا پانی ہے۔

جو کافر کی جلد سے خارج ہوگا اور دیگر حضرات کے نزدیک اس سے مراد پیپ ہے۔
حضرت کعب نے فرمایا ہے یہ ایک چشمہ ہے دوزخ کا اس کی جانب دیگر ایک چشمہ چھوٹا سا بہتا آتا ہے اور ہر چشمہ سانپ یا بچھو وغیرہ کا زہر ہی ہوگا۔ پس وہ جمع ہوجاۓ گا۔ پھر اس کے اندر اس کو ایک بار ڈبکی لگوائیں گے۔ جس وقت باہر نکالا جائے گا تو ہڈیوں کے اوپر سے سب گوشت اور کھال اتر چکے ہوں گے۔ جلد اور گوشت اس کی ہڈیوں اور ٹخنوں پر گرے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنا وہ گوشت یوں کھینچے گا جیسے آدمی اپنے کپڑے کو کھینچتا ہے۔

اور ترمذی میں اپنی حسن صحیح روایت میں بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیہ کریمہ کو پڑھا( اللہ سے ڈرتے رہو جیسے کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مت مرو مگر مسلمان ہوتے ہوئے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے مقام پر ڈالا جائے تو تمام اہل دنیا کی زیست تنگ ہوکر رہ جائے۔( زقوم دوزخ میں کانٹے دار خوراک ہے جیسے تھوہر ہے)۔ اب جو اس کو کھائے گا اس کا کیسا حال ہوگا دیگر ایک روایت میں ہے اس کا حال کیا ہوگا جس کی غزا صرف یہی ہوگی۔

اللہ کے اس ارشاد کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔( اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے) کانٹا گلے کے اندر اٹک جائے گا وہ نہ خارج ہوگا اور نہ ہی وہ اس کو اگل سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: