مردے سے قبر مخاطب

آپ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ جب مردے کو قبر کے اندر رکھ دیا جاتا ہے تو اس مردے سے قبر مخاطب ہوتی ہے اے ابن آدم تیرا ستیاناس ہو میرے متعلق تو کیوں فریب میں ہی پڑھا رہا کیا تجھے معلوم نہیں میں آزمائش کا گھر ہوں ظلمت کا گھر ہوں دار خلوت ہوں اور میں کیڑوں والا گھر ہوں۔ کیوں تو میرے متعلق فریب خوردہ ہی رہا تو میرے قریب سے لاپرواہی میں گزر جایا کرتا تھا۔

اگر وہ مرنے والا شخص نیک عمل والا ہو تو اس کی طرف سے قبر کو ایک آدمی جواب دیتے ہوئے قبر کو کہتا ہے کہ اگر وہ نیک عمل کرتا تھا اور برائی سے منع کرتا تھا تو پھر اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے تو قبر کہتی ہے کہ پھر میں اس کے اوپر سبزہ ڈالوں میں اس کا جسم منور ہوجائے گا اور اس کی روشنی اللہ تعالی کی جانب بلند چلی جائے گی۔فزازا کے معنی ہیں جو ایک قدم آگے بڑھائے اور دوسرا قدم پیچھے کو لے جائے مراد یہ ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے نہ پائے حضرت عبید بن عمیر لیثی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جس وقت مرنے والا شخص مرتا ہے تو جس گھڑے میں اس میں دفن ہونا ہوتا ہے گھڑا اس کو آواز دیتا ہے میں خلوت اور ظلمت اور تفرد کا گھر ہو اگر تو اپنی زندگی میں عبادت کرتا رہا ہوگا تو میں بھی تجھ پر رحمت والا ہو جاؤں گا اور اگر تو دوران حیات نافرمانی کرتا رہا ہے تو میں آج تیرے لیے سزا بن جاؤں گا میں وہ جو مجھ میں اللہ تعالی کا فرمان بردار ہو کر آتا ہے تو وہ مسرور ہو جاتا ہے اور جو نافرمان میرے اندر داخل ہو وہ برباد ہو گیا۔

محمد بن صبیح رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص کو قبر میں داخل کیا گیا اس کو عذاب ہونے لگا اور یا فرمایا کہ اس کو کچھ ناپسندیدہ حالت پہنچ گئی پھر مرے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے اس کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ اے وہ جو اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کے مر جانے کے بعد دنیا میں پیچھے رہ گیا تھا ہم سے کیا ہم تیرے لئے باعث عبرت نہ کے ہم جو تجھ سے پہلے آ گئے تھے ہمارا یہ آگے آ جانا تیرے لیے سوچنے کی بات نہ تھی کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہمارا عمل کرنا منقطع ہوگیا اور تجھے ابھی مہلت ملی ہوئی تھی پھر کیوں نہ تو نے کچھ شامل کر لیا جو تیرے بھائی نہ کر سکے۔ اس شخص کو زمین کا وہ ٹکڑا بھی ندا کرتا ہے۔

اور کہتا ہے کہ اے ظاہری دنیا کے فریب خوردہ شخص تو آپ نے ان اہل خانہ سے کیوں عبرت پزیر نہ ہوا تھا جو دنیا کے فریب میں آ گئے تھے اور پھر زمین کے شکم میں روپوش ہوگئے تھے موت وارد ہوئی اور وہ قبروں میں آوارہ ہوئے اور ان کے جنازے اٹھتے ہوئے بھی تم نے دیکھے ان کے احباب ان کے جنازے کو اٹھا اٹھا کر منزل پر پہنچاتے رہے جو ایک ضروری منزل تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: