روز قیامت اورخوشخبری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خوشخبری ہے ان کے لیے جو دنیا میں تواضح ہوتے ہیں روز قیاتم وہ اہل منبر ہونگے خوشخبری ہے ان کے لیے جو دنیا میں لوگوں میں اصلاح کرتے ہیں۔

روز قیامت وہ بہشت کے وارث ہوں گے بعض علماء نے کہا ہے کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کسی بندے کو جب اللہ اسلام کی توفیق دے، اس کو اسلام محبوب ہوجائے اور اس کام میں مشغول کر دے جس میں برائی نہ ہو اس کو رزق حاصل ہو اور ساتھ اسے تواضع ملے تو وہ اللہ کا انتخاب کردہ بندہ ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اللہ صرف انہی چار چیزیں عطا فرماتا ہے جن کو وہ پسند کرے
1۔ خاموشی یہ آغاز ہے عبادت کا۔

2۔ توکل علی اللہ۔

3۔ تواضع اختیار کرنا۔

4۔ دنیا سے رغبت نہ رہنا۔

منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرماتے تھے کہ ایک سیاہ رنگ شخص آ گیا جسے چیچک بھی تھی اس کی کھال کی رنگت خراب ہوچکی تھی جس کے قریب بیٹھتا تھا وہ اس سے دور اٹھ جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے حیرت ہے کہ آدمی نے اپنے ہاتھ میں کچھ زخم اٹھایا ہوا ہو وہ اس کے اہل خانہ کے لئے ہو اور وہ خود سے تکبر کو دفع کر دے۔ ایسا آدمی اچھا ہے۔

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا کیا وجہ ہے کہ تم میں عبادت کی حلاوت میں نہیں دیکھتا ہوں عرض کیا عبادت کی حلاوت کیا ہوتی ہے آپ نے فرمایا تواضع۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: