دنیا اور اللہ کا ارشاد

دنیا کے کل دو حال ہے مسرت یا دکھ لہذا یہ سب خلق کے حق میں نہیں ہوتی یہ رنگ تبدیل کرتی رہتی ہے جس طرح کہ اس حکیم مطلق کی رضا ہوتی ہے۔اسی طرح کی تبدیلی واقع ہوتی ہے اللہ کا ارشاد ہے۔

اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے ہی رہیں گے سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم فرمایا۔
بعض اہل تفسیر نے فرمایا ہے رزق کے لحاظ سے فرق رہتا ہے کبھی تو نگر کبھی فقر لہذا لازم ہے اگر دنیا ساتھ دیتی ہو تو اپنے رب کی عبادت کرے اور شکر بجا لائے اور نیک اعمال کرتے ہوئے اس کی جانب متوجہ رہے کیونکہ صرف وہ ہی دکھی لوگوں کا ملجا و ماویٰ ہے اور دنیا کے فریب میں نہ پھنس جائے اللہ کا یہ ارشاد ہی کافی ہے۔

بس تم دنیوی زندگی فریب میں مبتلا نہ کر دے اور نہ اللہ پر تمہیں فریب دینے والا فریب دے۔
دیگر ایک مقام پر اللہ کا ارشاد ہے۔
اور لیکن تم نے اپنے نفسوں کو آزمائش میں ڈالا اور تم انتظار میں تھے اور تم شبہ میں مبتلا ہوگئے اور تمہیں تمہاری آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کر دیا۔
اس آیت میں اس کے فریب میں پھنس جانے سے نفرت دلائی گئی ہے کیا اچھی ہے عقل والوں کی نیند اور بیداری چنانچہ وہ احمقوں کی بیداری اور ان کی محنت و مشقت پر کیوں کر رشک کریں گے ایک صاحب تقوی کا ذرہ بھر تقوی اور یقین تمام دنیا کے فریب خودہ لوگوں سے بہتر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: