زکوۃ کا حکم

اللہ نے زکوۃ کا حکم نافذ فرما دیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ قبیلے کے ایک شخص اور بنو سلیم سے ایک شخص کو مقرر فرمایا کہ وہ زکوۃ اکٹھی کریں انہیں ایک مکتوب تحریر فرمادیا اور حکم فرمایا کہ دونوں جائیں اور اہل اسلام سے زکوۃ اکٹھی کریں اور فرمایا ثعلبہ بن حاتم اور بنی سلیم کے فلاں شخص کے پاس جائیں ان دونوں سے زکوۃ وصول کرو۔

اور جس وقت ثعلبہ کے پاس آئے اس کو کہاں زکوۃ ادا کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب اس کو پڑھا دیا تو وہ کہنے لگا یہ جز یہ ہے یہ جزیہ ہے یہ جزیہ کی بہن ہے آپ جائیں پہلے فارغ ہو لے پھر میرے پاس واپس آئے وہ دونوں سلیمی شخص کے پاس چلے گئے اس نے ان کی بات کو سنا اور اٹھا اور سب سے اچھے اونٹ دے کر برائے زکوۃ علیحدہ کر دیے اور انہیں لئے ہوئے حاضر ہو گیا۔ جب ان دونوں نے دیکھے تو کہا تجھ پر یہ ضروری نہیں ہے اور ہماری خواہش صرف عمدہ اونٹ لینا نہیں ہے اس نے کہا درست ہے مگر میرے دل کو یہ دے دینے میں خوشی ہے اور تم یہی لوگے۔

ان کی زکوۃ وصول کرکے وہ فارغ ہو گئے اور وہاں سے واپس آگئے اور ثعلبہ کےپاس آئے اس سے بھی زکوۃ کا مطالبہ کیا اس نے کہا مجھے مکتوب دکھائے اس نے دیکھ لیا اور کہا یہ توجزیہ کی بہن ہے تم چلے جاؤ میں اپنی راۓ دیکھوں گا۔ پس وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے ان کے بولنے سے قبل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بربادی ہے ثعلبہ کے لئے اور سلیمی کے واسطے دعا فرمائیں پھر ان دونوں نے ثعلبہ کے بارے میں بتایا اور جیسے نیک عمل سلیمی نے کیا وہ بیان کیا تو اللہ نے ثعلبہ کے مطابق اس آیت کو نازل فرمایا۔

اور ان میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہم کو مال عطا فرمایا تو ہم صدقہ ضرور دیا کریں گے اور ہم لازمی نیک لوگوں میں سے ہوں گے بس جب ان کو اس نے اپنے فضل سے عطا کیا تو وہ بخل کریں گے اس سے اور پھر گئے اور وہ پھر نے جانے والے ہی ہیں پھر ازاں بعد نفاق آیا ان کے دلوں میں اس روز تک کہ وہ اس کو ملیں گے کیونکہ جو وعدہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا اس کے برعکس انہوں نے عمل کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: