صدقہ اور بندہ کی عزت

صدقہ دیں تو اس کی وجہ سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی اور اس بخشش کرنے کے باعث بندہ کی عزت کو اللہ زیادہ کرتا ہے اور جو اللہ کے لئے عجزو انکساری اختیار کرتا ہے اللہ اس کو رفعت عطا فرماتا ہے۔ طبرانی شریف میں مروی ہے صدقے کے باعث مال گھٹتا نہیں ہے اور جس وقت صدقہ دینے کے واسطے بندہ آگے کو ہاتھ بڑھائے تو وہ صدقہ دست الہی میں پڑتا ہے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ قبولیت عطا فرماتا ہے۔

اور قبل اس کے کہ وہ سائل کے ہاتھ میں جائے وہ اس پر راضی ہو جاتا ہے اور جو بندہ مستغنی ہو کر صدقہ طلب کرنے کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کے لیے اللہ فقر کا دروازہ واکر دیتا ہے بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال حلانکہ اس کا مال صرف تین طرح کا ہی ہوتا ہے جو کھا لیتا ہے اور ختم کر دیتا ہے۔ یا پہن کر بوسیدہ کرتا ہے یا فی سبیل اللہ دے دے اور لاپرواہ بن جائے اس کے علاوہ مال کو دوسروں کے لیے پیچھے چھوڑ جانے والا ہے۔

کیوں کہ اس کو یہاں سے جانا ہی ہے مروی ہے کہ تم میں ہر ایک سے اللہ گفتگو کرے گا اور درمیان میں ترجمانی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا وہ دائیں جانب نظر ڈالے گا تو صرف وہی دکھائ دے گا جو وہ پہلے بھیج چکا ہوگا اور سامنے نظر کرے گا تو صرف آگ ہی دکھائی دے گی بس آگ سے بچ جاؤ کھجور کا چھلکا دے کر ہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: