موت اور تکلیفیں

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انسان پر سکرات موت اور تکلیفیں وارد ہوتی ہیں اور اس کے بدن کے جوڑ ایک دوسرے سے کہتے ہیں علیک السلام تو مجھے چھوڑ رہا ہے اور میں تجھ سے جدا ہو رہا ہوں بس ایسا حال تو اولیاء اللہ اور اس کے محبوبوں پر ورود موت کا ہے مگر ہم لوگ کہ ہمہ وقت گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ہمارا حال کیسا ہوگا ہمارے اوپر موت کے سکرات بیہوشیاں آخر حوادث تک طاری ہی رہیں گے کیونکہ موت کے تین حوادث ہیں ان میں سے دو یہ ہیں۔ اول وہ تکلیف جب وقت نزع ہوتی ہے جیسے کہ ہم نے بیان کی ہے اور دوم ملک الموت کی صورت و شکل کو دیکھنا اور اس کا خوف اور اس کی ہیبت کا دل پر چھا جانا کہ اگر تمام انسانوں سے بڑھ کر قوت والا انسان بھی کسی گنہگار انسان کی روح قبض کرنے والے اس ملک الموت کو ایک نظر دیکھ لیں تو ہرگز برداشت نہ کر سکے۔

روایت ہے کہ موت کے فرشتے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کیا تو مجھے وہ صورت اپنی دکھا سکتے ہو جو تمہاری شکل اس وقت ہوتی ہے جب کسی گنہگار انسان کی روح قبض کرتا ہے فرشتے نے عرض کیا کہ آپ وہ برداشت نہ کر پائیں گے آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کی برداشت ہے فرشتے نے کہا اچھا آپ ذرا اپنے رخ کو دوسری جانب مور لے آپ نے موڑ لیا پھر آپ نے جو دیکھا کہ سیاہ شخص کھینچے تنے ہوئے بال بدبودار سیاہ لباس اور منہ اور نتھنوں میں سے آتش شعلے نکلتے ہوئے ہیں اور دھواں برآمد ہو رہا ہے اس کو دیکھا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے ملک الموت بد عمل شخص کو صرف تیری شکل ہی موت کے وقت دکھائی جائے تو اس کے لیے اتنی ہی سزا کافی ہے۔

جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیاہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے غیرت مند شخص تھے آپ جب باہر نکلتے تھے تو دروازے بند کر دیا کرتے تھے ایک روز دروازے کو بند کر کے باہر چلے آئے۔ گھر کے اندر ان کی زوجہ کو ایک شخص دکھائی دیا تو آپ نے کہا کہ اس آدمی کو گھر کے اندر کس نے آنے دیا ہے پھر حضرت داؤد علیہ السلام آگئے تو آپ نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں وہ ہوں جسے بادشاہوں کا کوئی خوف نہیں اور نہ ہی کوئی پردہ میرے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا واللہ پھر تو ملک الموت ہے تو داؤد علیہ السلام نے وہاں پر اپنے اوپر چادر لے لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: