قیامت اور نصیحت

دوزخ کے متعلق قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے پھر بھی فائدے کی تکمیل اور برائے نصیحت اس کو دوسری مرتبہ بیان کردے تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا ممکن ہے دوبارہ بیان ہونے سے غفلت شعار اور خراب دلوں کے حق میں مفید ہوں اللہ نے قرآن کریم میں بھی دوزخ کے حالات بار بار بیان فرمائے ہیں تاکہ عقل والوں کو نصیحت ملے دنیا فنا ہو جانے والی ہے اور آخرت باقی رہے گی اور یہی بہتر ہے اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں دوزخ سے بچائے رکھے۔

دوزخ سے متعلق حدیث ہے کہ جہنم سیاہ اندھیری ہے اس میں کوئی روشنی موجود نہیں ہے اور کوئی شعلہ نہیں ہے۔ اس کے دروازے پر ستر ہزار پہاڑ ہیں ان میں سے ہر کوہ کے اندر آتش کے ستر ہزار شعبہ جات ہیں اور ہر شعبے میں آگ کے ستر ہزار قطعے ہیں اور ہر قطعے میں آتشی وادیاں ستر ہزار ہیں اور ہر وادی ستر ہزار آتشی مکانات پر مشتمل ہے۔ ہر مکان ستر ہزار آتشی کمروں پر مشتمل ہے اور ہر کمرے کے اندر سات ہزار سانپ ہیں اور ستر ہزار بچھو بھی ہر بچھو ستر ہزار دمیں رکھتا ہے۔ ہر دم میں ستر ہزار تھیلیاں ہیں جن میں زہر ہے جب روز قیامت ہو گا تو ان پر سے حجاب اٹھایا جائے گا۔

وہ گروہ کی شکل میں دیوار کی طرح جن و انس کے دائیں اڑیں گے۔ مانند دیواروں کے بائیں جانب پرواز کریں گے مانند دیواروں کے ان کے روبرو پرواز کریں گے۔ دیواروں کی ہی مانند ان کے اوپر پرواز کرتے ہوں گے۔ اور بعض پچھلی جانب اڑتے ہوں گے۔ جس وقت جن و انسان ان کو دیکھ لیں گے تو اپنے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے اور تمام پکاریں گے اے پروردگار ہم کو اس سے بچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: