گروہ در گروہ

یحیی بن معاذ نے فرمایا ہے کہ ان کی مجلس کے اندر یہ آیت کریمہ کسی نے پڑھ دی۔ اس روز اہل تقوی کو ہم رحمان کی جانب اکٹھا کریں گے یعنی بحالت سوار اور عاصیوں کو ہم پیاس کی حالت میں جہنم کی جانب چلائیں گے۔

یعنی یہ پیدل ہوں گے اور پیاسے بھی ہونگے تو انہوں نے فرمایا اے لوگو کل کو تمہیں حشرکے میدان میں اکٹھا کیا جانا ہے اور تم ہر طرف گروہ در گرو آرہے ہوں گے اور اکیلے اکیلے ہی اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے لہٰذا نیکی اور بھلائی کو اختیار کرو تم سے ہر بات پوچھی جائے گی۔ اولیاء کرام تو وفد کی شکل میں عزت سے اللہ کے سامنے لے جائیں گے اور اہل معصیت کو اللہ کے عذاب کے حوالے کر دیا جائے گا۔

وہ گروہ در گروہ دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اے میرے بھائیو تمہارے آگے وہ روز ہے جو تمہارے شمار میں پچاس ہزار برس کے برابر لمبا ہے اور وہ صور پھونکے جانے کا دن وہ بڑی سخت تنگی والا دن ہے۔ جس روز کے کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہو جائیں گے جس روز کہ نہ مال کچھ نفع دے گا نہ اولاد سوائے اس کے کہ وہ بندہ قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور پیش ہو جائے اس روز ظالم کرنے والوں کا معافی طلب کرنا کچھ کام نہ آئے گا اور ان کے اوپر لعنت پڑے گی اللہ سے ان کے واسطے جائے قرار بری ہوگی۔

حضرت مقاتل بن سلیمان نے فرمایا ہے روز قیامت ایک صد سال تک مخلوق چپ چاپ کھڑی رہے گی اور کلام نہ کرے گی اور ایک صد برس اندھیرے میں حیرت زدہ رہے گی اور ایک صد سال تک اپنے پروردگار کے سامنے مضطرب حالت میں۔ قیامت کا وہ پچاس ہزار برس کا طویل روز ایک پرخلوص صاحب ایمان کی ہلکی سی فرض نماز کی مدت کی مانند بسر ہو جائے گا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندے کے قدم اس وقت تک نہ ہٹیںں گے تاآنکہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پرسش نہ ہو جائے گی۔

جس عمل میں تو نے اپنی عمر فنا کی۔

کونسے عمل میں تو نے اپنے جسم کو بوسیدہ کر دیا۔

تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا تھا۔

تو نے کہاں سے مال کمایا تھا اور اس کا مصرف کیا کیا۔

حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کے لئے مقبول دعا ہے انہوں نے وہ دنیا کے اندر ہی مانگ لی اور میں نے اپنی دعا کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ اپنی امت کے شفاعت کے لیے۔ یا الہی ہم کو بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ وبارک وسلم کی شفاعت عطا فرما آمین ثم آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: