دوست

اس کے متعلق قبل ازیں جناب ام المومنین سیدہ عائشہ نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک دوست اپنے دوست کو کیا روز قیامت یاد کرے گا تو فرمایا کہ کوئی یاد نہیں کرے گا تین جگہوں پر بوقت میزان جب تک کہ جان نہ لے کہ ترازو ہلکا رہاکہ بھاری رہا اور اعمال نامہ حاصل ہونے کے وقت جب تک جان نہ لے کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملا کہ بائیں ہاتھ میں اور جس وقت دوزخ میں سے ایک گردن برآمد ہوگی وہ ان پر لپٹ جائے گی اور کہے گی کہ مجھ کو تین پر اللہ نے تسلط عطا کر دیا ہے۔ ایک اس پر مسلط فرما دیا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارتا ہے۔

اور ہر سر کشی کرنے والے ظالم پر اور اس شخص پر جو روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ ان پر لپٹ جائے گی اور دوزخ میں عمیق شدید عذاب میں ڈال دے گی اور دوزخ کے اوپر بال سے بھی زیادہ باریک پولی ہے جو تلوار سے تیز تر ہے اس کے کانٹے ہوں گے اور کانٹوں والے پودے بھی کچھ لوگ تو مانند بجلی کے تیزی کے ساتھ اس پر سے گزرے اور بعض مانند تیز آندھی کے۔

حضرت ابو ہریرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت زمین اور آسمانوں کی تخلیق اللہ نے فرمائے تو صور پیدا فرمائی اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کو دے دیں انہوں نے اس کو اپنے منہ سے لگایا ہوا ہے اور عرش کی جانب دیکھتے ہوئے منتظر ہے کہ کب حکم فرما دیا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے تو فرمایا وہ ایک سینگ ہے نور کا بنا ہوا اس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے اس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا ایک مرتبہ گھبراہٹ کی پھونک۔ پھر بے ہوشی کی پھونک ہے۔

اور پھر دوسری بار زندہ ہو جانے کی پھونک۔ پس اس کے ساتھ ہی روحیں نکل پڑیں گی جس طرح شہد کی مکھیوں سے سب زمین و آسمان بھر جائے وہ ناک کی راہ جسموں کے اندر داخل ہو جائے گی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اول ہوں وہ جس کی قبر کھل جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: