علم کی تین وجوہات

علم حاصل کرنے کی وجوہات 3 ہیں اول یہ کہ علم ہو جائے فرض کیا ہے سنت کیا ہے دوم یہ کے معلوم ہوجائے کہ وضو کے فرائض کیا ہیں اور سنتیں کیا ہیں پھر نماز مکمل ہو سکتی ہے۔ سوم یہ کہ شیطان کے فریب کا بھی علم ہو جائے اور اس کا مقابلہ بندہ اپنی پوری ہمت سے کر سکے۔
اور تین باتیں ہیں جن سے وضو تکمیل پذیر ہوتا ہے اول یہ کہ اپنے دل سے کینہ حسد اور عداوت کو بالکل خارج کرکے پاک کیا جائے دوم اپنے بدن کو معاصی سے پاک کرنا سوم یہ کہ بدن کے اعضاء کو بلا اسراف آب دھویا جائے۔

اس طرح کپڑوں کی طہارت بھی تین چیزوں سے ہوتی ہے اول یہ کہ حلال مال سے لباس بنایا گیا ہو۔دوم یہ کہ لباس ظاہری نجاست سے پاک کیا جائے سوم یہ کہ لباس بمطابق سنت ہو وہ فخر اور دکھاوے کے لئے نہ پہنا ہو۔
ایسے ہی وقت کی حفاظت کے لیے بھی تین چیزیں ہیں اول یہ کہ سورج چاند ستاروں پر دھیان رہے کہ معلوم ہو جائے کہ نماز کا وقت کب ہو جائے تو نماز ادا کرے دوم یہ کہ کان اذان کی جانب متوجہ رہیں سوم یہ کہ تیرا دل ایسا ہو کہ ہمیشہ وقت کی پابندی پر مائل اور متوجہ ہو۔
قبلہ رو ہونے میں بھی تین چیزیں محفوظ ہیں اول یہ کہ معلوم ہو کہ تم کون سی نماز ادا کرنے لگے ہو جو مجھے معلوم ہو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو جو تم کو دیکھ رہا ہے بس اس کے سامنے بحالت خوف کھڑے ہو سوم یہ کہ تمہیں یہ علم ہو کہ تمہارے دل کے اندر کیا ہے تاکہ تم دنیاوی وسوسوں سے اپنے دل کو پاک رکھ سکو۔

تکبیر کی تکمیل کے لئے بھی تین چیزیں ہیں اول یہ کہ درست اور پختہ تکبیر کہی جائے دوم یہ کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائیں آجائے سوم یہ کہ تمہارا دل نماز میں حاضرر ہے۔
قیام کی تکمیل کے لئے بھی تین چیزیں ہیں اول یہ کہ نگاہ سجدہ کرنے کے مقام پر ہو دوم یہ کہ دل کی توجہ اللہ کی جانب پوری طرح سے ہو سوم یہ کے دائیں بائیں طرف بالکل ملتفت نہ ہو۔

قرات کی تکمیل کے لئے بھی تین چیزیں ضروری ہے اول یہ کہ اچھے انداز میں ترتیل کے ساتھ قرات کی جائے اور سورۃ فاتحہ پڑھے دوم یہ کہ غور و تدبر سے پڑھے معنی پر توجہ ہو سوم یہ کہ جو کچھ پڑھا جائے اس پر عمل بھی کیا جائے۔
رکوع کی تکمیل کے ضمن میں تین باتیں ہیں اول یہ کہ پشت سیدھی رہے نہ بلند ہونا نیچی ہو دوم یہ کہ دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جائے اور انگلیوں کے درمیان فراخی رہے سوم یہ کہ اطمینان سے رکوع کیا جائے تسبیح پڑھے۔

سجدے کی تکمیل میں کے بارے میں بھی تین چیزیں ہیں اول یہ کہ دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھا جائے دوم یہ کہ اپنے بازو کو زیادہ نہ پھیلایا جائے سوم یہ کہ سکون سے رہے اور تسبیح پڑھے۔
قعدہ کے تکمیل کے واسطے تین باتیں لازمی ہیں اول یہ کہ بائیں پاؤں پر بیٹھا جائے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے دو گے دوم یہ تشہد کی دعا پڑھی جائے اور دوران تشید اللہ کی عظمت بیان میں رہے اپنے واسطے اور سب ایمان والوں کے لئے دعا مانگے سوم یہ کہ مکمل کرنے کے بعد سلام پھیرے۔
اور سلام یوں تکمیل پذیر ہوگا کہ دل میں نیت سچی ہو۔دائیں طرف کے محافظ فرشتوں اور مردوں اور عورتوں پر سلام کیا جائے پھر ایسے ہی بائیں جانب کرے اور اپنی نگاہ کندھوں سے آگے نہ لے جائے۔

اخلاص کی تکمیل کے لئے بھی تین باتیں ضروری ہیں اول یہ کہ اپنی نماز کے واسطے رضائے الہی چا ہے اور لوگوں کی رضا مت طلب کریں دوم یہ کہ یقین ہو کہ تمام تر توفیق اللہ کی جانب سے ہی ہے سوم یہ کہ اس کی حفاظت کی جائے تاکہ قیامت تک درست ہی رہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے۔
اور جو نیکی لے کر آیا اور یہ نہیں فرمایا کہ جس نے نیکی پر عمل کیا۔ مراد یہ ہے کہ لازم یہ ہے کہ نیکی وہ ہو جو محفوظ ہے تاقیامت تاکہ اس نیکی کے ساتھ اللہ کے حضور جاکر پیش ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: