نماز میں بارہ ہزار فضائل

منقول ہے کہ نماز میں بارہ ہزار فضائل تھے پھر یہ 12000 ہزار فضائل صرف 12 فضائل میں جمع کر دیئے گئے بس نماز جو پڑھتا ہے اس کو ان بارہ حصائل کا عہد کرنا ہوتا ہے تاکہ اس کی نماز پوری ہو جائے وہ چھ نماز شروع کرنے سے پہلے ہیں اور چھ نماز کے اندر ہے۔
علم۔ اس بارے میں ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ علم کی حالت میں تھوڑا سا عمل خالد جہل میں بہت سے عمل سے بہتر ہے۔

وضو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ نماز بغیر طہارت کے نہیں ہوتی۔

لباس۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ ہر نماز کے وقت اپنی زینت لیا کرو۔ اس سے مراد ہے کہ ہر نماز کے وقت پر اپنے کپڑے پہن لوں یا یہ کہ اپنے بہتر لباس پہن لو۔

وقت کی حفاظت۔ وقت کا خاص خیال رکھیں کیوں کہ اللہ نے فرمایا ہے۔
بے شک نماز امام داروں پر مقررہ اوقات کے لحاظ سے فرض ہے۔

اپنا رخ قبلہ کی جانب ہونا۔ اس بارے میں ارشاد ہے۔
بس تم پھولوں اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف اور تم جس مقام پر بھی ہوں اپنے چہروں کو اس کی جانب کیا کرو۔

نیت۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سب اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جو اس کی نیت ہے۔

تکبر۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نماز کی تکبیر تحریمہ ہے یعنی جس وقت اللہ اکبر کو پکارا تو نماز کا آغاز ہوگیا اب ہر طرح کا خلاف نماز عمل حرام ہوگیا اور نماز سے حلال ہونا سلام سے ہے یعنی سلام پھیرنے کے بعد آدمی نماز سے باہر آ جاتا ہے۔

قیام۔ اس بارے میں اللہ نے فرمایا ہے۔
اور اللہ کے واسطے خاموش کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔

فاتحہ۔ یہ اس واسطے ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔
بس تم پڑھو قرآن سے جتنا کہ آسان ہو۔

رکوع۔ اس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے۔
اور رکوع کیا کرو

سجدہ۔ سجدہ بجا لانا کیوں کہ اللہ کا ارشاد قدسی ہے
اور سجدہ کرو۔

قعود۔ یہ اس واسطے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس وقت آدمی آخری سجدے میں سے اپنا سر اٹھاتا ہے تو تشہد کے بقدر بیٹھے تو اس کی نماز مکمل ہو جائے گی۔

مندرجہ بالا 12 خصائل جب تمام جمع ہو جاتے ہیں تو اب ضرورت ہو جاتی ہے کہ مہر لگا دی جائے اور احلاص قلب ہے اس لئے کہ یہ چیزیں مکمل ہو پائیں اور اللہ کا حکم بھی خالص اسی کی عبادت کرنے کے لئے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: