تکبر اور اللہ کی نگاہ

اللہ مجھے اور آپ کو فلاح دارین عطا فرمائے یہ یاد رہے کہ تکبر اور عجب دو چیزیں ہیں۔ جو تمام فضائل کو برباد کر دینے والے ہیں اور رزائل کا سبب ہوا کرتی ہے۔ اتنی سی رزالت کافی ہوتی ہے کہ انسان نصیحت پر کان نہ دھرے اور نہ کوئی ادب کی بات ہی قبول کرے۔ بزرگ حضرات فرماتے ہیں کہ حیا اور تکبر کے درمیان علم برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ علم کی جنگ ہوتی ہے تکبر سے جس طرح کے بلند و بالا عمارت سے سیلاب کی جنگ ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ “جس شخص نے اپنا کپڑا تکبر سے گھسیٹا اس کی جانب اللہ نگاہ نہ فرمائے گا” ۔

یعنی رحمت کی نظر۔
حکماء نے کہا ہے کہ تکبر کے ساتھ سلطنت نہیں رہا کرتی اللہ نے تکبر کے ساتھ ہی فساد کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور ارشاد فرمایا ہے۔
” یہ پچھلا گھر ہم یہ ایسے لوگوں کے واسطے بناتے ہیں جو زمین میں نہیں چاہتے بلندی یعنی سرکشی اور نہ فساد”۔ القصص 83
اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔

” البتہ اپنی نشانیوں کو میں ان سے پھیر دوں گا جو لوگ کہ زمین کے اندر بغیر حق تکبر کرتے ہیں”
ایک حکیم نے کہا ہے کہ میں نے ہر تکبر کرنے والے کو دیکھا ہے کہ اس کا حال برباد ہوگیا یعنی جس چیز کے باعث وہ لوگوں کے سامنے اکڑتا تھا وہ نعمتیں اس سے جاتی رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: