سمجھ کر نماز پڑھنے کا ثواب

مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن ان کی نماز کا صرف چوتھا یا پانچواں یا چھٹا حصہ یہاں تک کہ دسواں حصہ تک فرمایا گیا کہ درج کیا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ صرف اتنی ہی نماز لکھی جاتی ہے جتنی سمجھ کر اور انابت کے ساتھ پڑھی۔
دیگر ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

جس نے اپنے دل کی توجہ اللہ کی جانب رکھ کر دو رکعتیں ادا کیں وہیں وہ یوں گناہوں سے نکل گیا جس طرح کے اس کی والدہ نے اس کو آج ہی جنم دیا ہو اس بندے کی نماز پھر ہی اعلی مرتبہ والی ہوتی ہے جب وہ توجہ اللہ کی طرف رکھے اگر توجہ نماز میں نہ ہوئی اور نفس کے وسوسوں میں مشغول رہا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ جو شخص سلطان کے دروازے پر پہنچ گیا ہو اور اپنے قصوروں کی معافی مانگنے جا رہا ہوں جب وہ ایک دروازے پر پہنچے اس کے سامنے کھڑا ہو جائے بادشاہ اس کی طرف ملتفت ہو جائے تو یہ شخص دائیں بائیں جانب دیکھنا شروع کر دے پھر یہ ہے کہ سلطان اس کی حاجت پوری نہیں کرے گا سلطان کی طرف جتنا متوجہ ہو گا اتنی ہی اس کی بات تسلیم کی جائے گی نماز کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے بندہ جس وقت غفلت میں غرق نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو اس کو قبول نہیں کیا جاتا۔

واضح ہو کہ نمازیوں ہے جیسے ایک ولیمہ ہو رہا ہوں جو بادشاہ کی طرف سے ہوں قسم کے کھانے اور مشروبات ہر رنگ کے مزے دار کھانے ہو پھر وہ لوگوں کو ولیمے پر بلائے بالکل ایسے ہی اللہ نے لوگوں کو نماز پر دعوت دی جس میں مختلف انداز کے احوال و آثار ہیں پس نماز پڑھتے ہوئے عبادت کرنے میں فی الحقیقت ہر طرح کی عبادت سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے افعال یوں ہے جیسے کھانے اور اذکار مانند مشروبات کے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: