دوزخ کیسے لائی جائے گی

مسلم شریف میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے روزقیامت ایسے حال میں دوزخ لائی جائے گی اس کو ستر ہزار لگامیں پڑی ہوئی ہوں گی اور ہر لگام سے اس کو ستر ہزار ملائکہ گھسیٹ رہے ہوں گے۔ حدیث پاک میں وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملائکہ دوزخ کی عظمت کے متعلق کہ جس کی جانب اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔
” تند اور شدید نہایت ہیں”۔ التحریم 6

فرمایا ہے کہ ہر ملک اتنا بڑا ہے کہ اس کے دو کندھوں کے بیچ میں ایک برس کی مسافت جتنا فاصلہ ہے اور ان میں سے ہر ایک کی طاقت کا حال یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے ہتھوڑا کسی کوہ پر ماردیں تو اس کو ہموار کرکے رکھ دے وہ اپنی ہر ضرب کے ساتھ ستر ہزار اہل دوزخ کو گہرائی دوزخ میں پھینک دے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے۔
“اس پر انیس ملائکہ ہے”۔ المدثر 30

یعنی وہ زبانیہ ہیں مراد ہے شدید ہے اور دوزخ کے تمام فرشتوں کی تعداد تو اللہ ہی کے علم میں ہے اللہ نے فرمایا ہے۔
” اور تیرے رب کے لشکروں کا علم صرف اسی کو ہے”۔ المدثر 31

حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا کہ دوزخ کہاں تک وسعت رکھتا ہے انہوں نے فرمایا واللہ مجھے اس کی وسعت معلوم نہیں ہے البتہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ہر زبانیہ فرشتہ کے کان کی لو اور اس کے کندھوں کے درمیان ستر برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے اور ان میں خون اور پیپ کی وادیاں بہتی ہیں۔ ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کی ہر دیوار چالیس برس کی مسافت کے برابر موٹی ہے۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ تمہاری یہ آتش دوزخ کی آتش کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آتش دنیا بھی کافی ہے تو فرمایا اس میں انہتر گنا مزید ہوگا ہر ایک اتنا ہی گرم ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اہل دوزخ سے ایک دوزخی اپنے ہاتھ کو اہل دنیا کے سامنے نکال دے تو اس کی حرارت کے باعث تمام دنیا جل کر رہ جائے اور اگر ایک دروغا دوزخ دنیا والوں کی طرف نکل پڑے کہ وہ اس کو دیکھ لیں تو اس کے اوپر غضب الہی کی علامات کو دیکھتے ہی وہ مر جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: