دوزخ میں دھماکے کی آواز

مسلم وغیرہ میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک دھماکے کی آواز ان کو سنائی دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کیا ہے۔ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ ایک پتھر ہے اسے ستر برس قبل دوزخ میں پھینکا گیا تھا جو اب تک آگ میں گرتا چلا جاتا تھا آج وہ اس کی گہرائی میں جا پہنچا ہے۔
حضرت عمر بن خطاب کہا کرتے تھے کہ دوزخ کو زیادہ یاد رکھو کیونکہ اس کی حرارت بہت سخت ہے اور اس کا عمق بھی دور تک ہے اور اس کی زنجیریں آہنی ہیں۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے۔ آتش، اہل دوزخ کو یوں اچک لے گی جس طرح کوئی پرندہ دانے چگ لیتا ہے۔ آپ سے دریافت کیا گیا کہ اس ارشاد الہی کے معنی کیا ہیں۔

” جب وہ ان کو دور سے ہی دیکھ لے گی وہ اس کو سن لیں گے غیظ میں چنگھارتی ہوئی”۔ الفرقان 21
ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آگ آنکھیں بھی رکھتی ہے آپ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں سنا کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کو دوزخ کی آنکھوں کے درمیان اپنی جائے قرار بنا لینی چاہیے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس کی آنکھیں ہیں تو فرمایا کیا تم لوگوں نے اللہ کے اس ارشاد کو سنا نہیں ہے۔
” جب وہ( دوزخ ) دور سے ان کو دیکھے گا۔

اور اسی کی تائید اس حدیث سے بھی ہو رہی ہے۔ کہ آگ میں سے ایک گردن برآمد ہوگی اس کی دو آنکھیں دیکھ رہی ہوگی اور ایک زبان ہوگی۔ جس کے ساتھ وہ کلام کرے گی اور کہے گی اللہ نے مجھے اس پر تسلط عطا فرمایا ہے۔ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود پکارتا رہا۔ پس جیسے پرندہ تل کو دیکھ لیتا ہے یہ دوزخ سے برآمد شدہ گردن۔ اس سے زیادہ تیز نگاہ سے دیکھنے والی ہوگی۔ بالآخر اس کو ہڑپ کر لے گی۔
حدیث پاک میں وارد ہے کہ نیکیوں والا پلڑا نور کا ہوگا۔ جب کہ برائیوں والا پلڑا ظلمت کا ہوگا اور ترمذی شریف میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت عرش کے دائیں جانب رکھی جائے گی اور دوزخ بائیں طرف اور نیکیاں دائیں جانب اور برائیاں بائیں طرف یوں جنت نیکیوں کے مقابل ہوگی۔ اور دوزخ برائیوں کے مقابل ہو گی۔
حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے نیکیاں اور برائیاں اس طرح کے میزان میں وزن کی جائیں گی کہ اس کے دو پلڑے ہوں گے اور ایک کانٹا اور بتایا کرتے تھے کہ اللہ جب اپنے بندوں کے اعمال کا وزن کرنے کا ارادہ کر لے گا تو روز قیامت ان کو اجسام عطا کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: