بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنا

بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ بیوہ اور مسکین پر جو خرچ کرے وہ فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے کی مانند ہے اور میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا اور رات کو قیام کرنے والے ایسے شخص کی مانند ہے جو کاہل نہ ہو اور اس روزہ دار کی مانند جو افطار نہیں کرتا۔ بعض سلف نے کہا ہے کہ شروع میں میں بدمست یعنی شراب نوشی کرکے مست رہنے والا اور معاصی میں مستعرق رہا کرتا تھا۔ ایک دن ایک یتیم کو میں نے دیکھ لیا تو اس کی عزت افزائی کی۔ جس طرح کے اپنے بچوں کی کی جاتی ہے۔

بلکہ اس کی عزت اس سے بھی زیادہ کی۔ ازاں بعد میں سو گیا تو عذاب کے فرشتے میں نے دیکھے جو سختی کے ساتھ مجھے گرفت کیے ہوئے دوزخ کی جانب لے جاتے تھے کہ اچانک وہ یتیم آدھمکا اور کہنے لگا۔ اس کو چھوڑ دو تا کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ بات کر لوں۔ مگر فرشتوں نے انکار کردیا پھر آواز آ گئی کہ اس کو چھوڑ دو۔ کیوں کہ اس نے اس یتیم بچے پر احسان روا رکھا تھا۔ بس اس کو چھوڑ دیا پھر میں بیدار ہوا اس روز سے لے کے آئندہ یتیموں پر بہت زیادہ احسان کرنا میں نے شروع کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: