یتیم بچے کی ماں

ابو یعلی سے مروی ہے بہ سند حسن کے میں اول ہوگا جنت کے دروازے کو کھولنے والا۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوگا کہ ایک مجھ سے بھی آگے بڑھ رہی ہے اس کو میں پوچھوں گا کہ تو کون ہے تو وہ کہے گی میں عورت ہوں اپنے یتیم کو پالنے کی خاطر بیٹھ رہی تھی۔ یعنی دوبارہ کسی سے نکاح نہ کیا تھا۔ طبرانی میں مروی ہے اور اس روایت کی سند میں بجز ایک راوی کے دیگر تمام راوی ثقہ ہیں۔

اور وہ متروک نہیں ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا کہ روز قیامت ایسے شخص کو اللہ عذاب میں مبتلا نہ فرمائے گا جو یتیم پر رحم کرتا ہوں اور بات کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی رکھتا ہو اور اس کی یتیمی اور کمزوری پر رحم کھاتا ہوں اور اس کو جو اپنا فضل اللہ نے عطا کر رکھا ہے اس کی وجہ سے اس پر ظلم اور جبر نہ کرتا ہو۔

مسند احمد وغیرہ میں آیا ہے۔ جس نے کسی یتیم کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور محض رضائے الہی کے لیے ہی ہاتھ پھیرا اس کے واسطے ہر بال کے عوض میں نیکیان ہیں جن جن بالوں پر ہاتھ پھیرا ہو اور جس نے کسی یتیم لڑکے پر جو کہ اس کے پاس ہو احسان فرمایا وہ شخص اور میں جنت کے اندر یوں یونگےجس طرح دو انگلیاں۔ اور ایک جماعت سے روایت ہوا ہے اور اس کو حاکم صحیح کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سے اللہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کی بنائی جاتی رہنا کمر دہری ہو جانا اور یوسف علیہ السلام کے برادران کا ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا یہ تمام کچھ ہونے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں کے لیے ایک بکری ذبح کی تھی اور اسے خود کھایا تھا۔ لیکن جو روزہ دار بھوکا یتیم مسکین آیا تھا۔ اس کو نہیں کھلائی تھی۔ اللہ نے ان کو بتا دیا کہ عند اللہ سب سے زیادہ پسندیدہ بات مخلوق کی یہ ہے کہ وہ یتیم اور مساکین کے ساتھ محبت رکھتا ہو اور ان کو حکم فرمادیا کہ کھانا تیار کرکے مسکینوں کو اس پر دعوت دیں بس آپ نے اسی طرح ہی عمل کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: