یتیم بچے کی کفالت اور جنت

بخاری میں ہے کہ میں اور وہ جو یتیم کا کفیل ہو جنت میں ہوں گے اور اشارہ فرماتے ہوئے شہادت کی انگشت اور درمیان والی انگشت کے درمیان میں تھوڑا سا فاصلہ کر دیا۔
مسلم میں ہے یہ یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اپنا عزیز ہو یا غیر یتیم اس کا میں اور وہ کفیل یتیم جنت میں یوں ہوں گے اور انگشت شہادت کے درمیان والی انگشت سے ملاتے ہوئے اشارہ فرمایا۔

اور بزاز میں آیا ہے جس نے یتیم کی کفالت کی اور وہ اس کا رشتہ دار ہو یا رشتے دار نہ ہو تو میں اور وہ شخص یوں ہوں گے جنت کے اندر اور آپ نے دونوں انگلیاں ملائیں اور جس نے تین دختروں پر ان کے اخراجات پر پرورش شادی وغیرہ کے لئے محنت برداشت کی وہ جنت میں ہے اور اس کے حق میں فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے کا ثواب ہے۔ جو روزے دار اور قیام کرنے والا ہو۔
ابن ماجہ شریف میں آیا ہے جس نے تین یتیموں کو پالا وہ یوں ہے جیسے وہ شخص شب میں قیام کرتا ہو اور دن کو روزے رکھتا ہو اور صبح اور شام فی سبیل اللہ تلوار اٹھائی رہتا ہے۔ اور میں اور وہ شخص جنت کے اندر بھائی بھائی ہوں گے جس طرح یہ دونوں بہنیں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور درمیان والی انگلیوں کو ملا لیا۔

ترمذی شریف میں وارد ہے اور اس کو صحیح بتایا گیا ہے کہ جس شخص نے مسلمانوں میں سے ایک یتیم کے خوردو نوش کی ذمہ داری کو اٹھایا اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا بالیقین مگر یہ کہ اس نے ایسے گناہ کا ارتکاب کرلیا ہو جو معاف نہ کیا جاتا ہو جیسا کہ شرک اور کفر وغیرہ۔
ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ جو کہ حسن ہے۔ یہاں تک کہ وہ یتیم اس کا محتاج نہ رہے اس کے لیے لازما جنت واجب ہوگئی۔ اور ابن ماجہ شریف میں ہے کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا گھروہ ہے جس میں کوئی یتیم رہتا ہو اور اس کے ساتھ برا برتاؤ کیا جاتا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: